Saturday, 27 August 2022

Order Creates Order

 والدین کے پاس اپنے بچوں کو اچھا انسان بنانے کے بہت سے مواقع مل جاتے ہیں-  


گھر کے اندر سلام و دعا کا رواج-  قرآن کی تلاوت اور نماز اور دعاؤں کا اہتمام-  گھر کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد-  


گھر کے باہر سلام و دعا کا رواج-  گھر اور مسجدوں کا رابطہ-  گھر سے باہر ماحولیات کی ذمّہ داری-  گھر سے باہر عوامی جگہوں اور چیزوں کی ذمّہ داری-  


اسکول میں اساتذہ کے پاس یہ مواقع نہیں ہوتے اور ہونے بھی نہیں چاہئیں-  


استاد کی ذمّہ داری علم دینے کی ہے-  علم پر تحقیق کرنے کی ہے-  تعلیم کا نظام بنانے کی ہے-  اور یہ بہت ہے-  


استاد کو ماہر نفسیات، ڈاکٹر، آرٹسٹ، ناچ گا کر بچوں کو بہلانے والا کھلونا، مولوی، سماجی کارکن، ماں باپ، ماسی، غلام وغیرہ بنانے سے گریز کریں-  ورنہ نقصان آپکے بچے اور آپکا ہوگا-  


اسکولوں کو کلینک، لائبریری، اسٹوڈیو، آرٹس کونسل، کھیلوں کا اکھاڑا، مسجد، خیراتی ادارہ، گھر وغیرہ بنانے سے گریز کریں-  


تمام والدین ذرا سوچیں-  کہ کیا استاد کا گھر اور خاندان نہیں ہوتا؟  استاد غلام نہیں ہوتا-  یہ استاد کے ساتھ ظلم ہے کہ آنے جانے کا وقت شامل کریں تو وہ دس دس گیارہ گیارہ گھنٹے کی جان توڑ ملازمت کرے-  نہ گھر کے رہتے ہیں نہ اسکول کے قابل-  


والدین کو چاہئے کہ مطالبہ کریں کہ تعلیمی عمل تین چار گھنٹے سے زیادہ کا نہ ہو-  جس میں بہت ہی ضروری مضامین پڑھاۓ جائیں-  تاکہ استاد گھر کی زندگی بھی انجواۓ کرے-  اور بچے بھی گھر جا کر کچھ سکھ کا سانس لیں-  


باقی مشاغل کے لئے معاشرے میں جگہیں ہونی چاہئیں-  کھیلوں کے میدان-  لائبریریاں-  کمپیوٹرز سیکھنے کے ادارے-  وغیرہ 


یہی وہ کاروبار ہوتے ہیں جن سے معاش ملتی ہے-  روزگار بنتا ہے-  یہ سب کچھ مفت میں اسکول میں ملے گا تو نہ تو بچہ ان سے سیکھ سکے گا اور نہ انکا لطف اور فائدہ اٹھا سکے گا-  


آج بچے اردو بھی صحیح لکھ اور بول نہیں پاتے-  کیونکہ صبح سے شام سات آٹھ گھنٹے کی مزدوری کرتے ہیں بے چارے-  تھکی تھکائی غلام ٹیچرز کی ڈگڈگی پر ناچتے ہیں جو انہیں اسکول کی مینجمینٹ نے تھمائی ہوتی ہے-  


اپنے بچوں کو ان سب بے ہودگیوں سے نکال کر ایک آزاد اور با صلاحیت انسان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں-  انکو حسن بیان سکھائیں-  انکو کھیلوں کے اصول سکھائیں-  زندگی میں نظم و ضبط پیدا کرنا سکھائیں-  انکو قرآن کے اور سچّے قصّے کہانیاں سنائیں-  انکے ساتھ وقت گزاریں-  انکو سیر کے لئے لے جائیں-  


اللہ نے بچے آپکو دئیے ہیں-  اس لئے انکی ذمّہ داری آپ اٹھائیں-  


جب والدین ہی اپنے بچوں سے بیزار ہوں اور ان سے دور بھاگیں گے تو بھلا اور کون ان سے مخلص ہوگا؟ 


ویسے تو اب جو حالات پیدا ہو چکے ہیں بدتر اور جسکا پورا معاشرہ پوری قوم ذمّہ دار ہے-  قدرت خود بخود اسی طرف لیکر جارہی ہے کہ قوم کو دھوکہ دینے کے لئے بناۓ جانے والے ادارے برباد ہو رہے ہیں-  


جس چیز اور جن لوگوں کی دنیا کو ضرورت نہ ہو وہ ضائع اور تباہ ہی ہو جاتی ہیں-  اور جن نعمتوں کی قدر نہ کی جاۓ وہ چھن جاتی ہیں-  وقت بھی ان میں سے ایک ہے-  وقت اپنے برباد کرنے والوں کو برباد کر کے چھوڑتا ہے-  


خود کو اور اپنے بچوں کو دنیا کے قابل بنائیے-  اللہ کی دنیا کو ایک نظم و ضبط والا نظام-  کیونکہ ایک عالم نے کہا تھا  


Order creates order.

Disorder creates disorder.  

Monday, 8 August 2022

اسکول جانے سے پہلے

 اپنے بچوں کو بڑا آدمی بننے کے خواب نہ دکھائیں-  

 

اچھا انسان بننے کے خواب دکھائیں-  

 

کیونکہ اچھا آدمی ہی بڑا بھی ہوتا ہے-   


اپنے بچوں کو مستقبل میں بڑے کام کرنے کے خواب دکھانے کے غم میں مبتلا کرنے کے بجاۓ اسی وقت چھوٹے چھوٹے کام کرنے کی خوشیاں دیں-  کیونکہ بڑے کام تعداد میں کم اور چھوٹے کام تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں-  اور یہ چھوٹے چھوٹے کام دوسروں کی تعریف حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور دل کا سکون حاصل کرنے کے لئے ہوتے ہیں-  اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ لوگ ان چھوٹے کاموں کو اہمیت دیتے ہیں یا نہیں-  

 

ہمارے معاشرے کو بڑا آدمی بننے کے خوابوں نے بہت چھوٹا اور غیر محفوظ بنادیا ہے-  جو معاشرے کے طے کردہ اصولوں کے مطابق 'بڑا آدمی" نہیں بن پاتا وہ حسرت و یاس میں مبتلا ہو جاتا ہے-  ناشکرا ہو جاتا ہے-  اسکا اپنی صلاحیتوں سے اعتبار آٹھ جاتا ہے-  اسکا اپنی نیکیوں سے یقین آٹھ جاتا ہے-  وہ اپنے اوپر نازل ہونے والی کروڑوں خیر و برکات کو نظر انداز کردیتا ہے-  رب سے  شکوہ-  لوگوں کی شکایتیں-  حکمرانوں پر الزامات-  زمانے کو برا کہنا-  

 

بچوں کو آزاد رہنا سکھائیں-  اپنے بچوں کے عقائد اپنے گھروں میں مضبوط کریں-  اپنے بچوں کا ایمان اپنے گھروں میں پختہ کریں-  اپنے بچوں کی تربیت کی ذمّہ داری آپکی ہے تو اسے خود پورا کریں-  اپنے بچوں کی ابتدائی تعلیم کا انتظام اپنے گھروں میں کریں-  اپنے بچوں کے اخلاق خود سنواریں-  اپنے بچوںکو  ادب، عزت و احترام کرنا اپنے گھروں میں سکھائیں-  اپنے بچوں کو سوال کرنا اپنے گھروں میں سکھائیں-  


اپنے بچوں کو چیزوں کا احترام سکھائیں-  چیزیں استعمال کرنے کے لئے ہوتی ہیں-  ضائع کرنے کے لئے نہیں-  خراب کرنے کے لئے نہیں-  ہمارے آس پاس کے وسائل پر دوسروں کا بھی حق ہے-  دوسروں کو انکے حق سے محروم کر کے ہم دوسروں کو ہمارے حق سے محروم ہونے کی اجازت دے رہے ہوتے ہیں-  


اپنے بچوں کو اپنے کام سے کام رکھنا سکھائیں-  سواۓ اس وقت کے کہ کسی کی جان پر بنی ہو-  کوئی شدید تکلیف میں مبتلا ہو-  کسی پر کوئی حادثہ گزرا ہوا-  کسی کا کوئی بہت بڑا نقصان ہو گیا ہو-  معاشرہ مصیبت میں ہو-  ماحول آلودہ ہو-  انسانیت خطرہ میں ہو-  ظلم ہو رہا ہو-  لوگوں کا حق مارا جا رہا ہو-  


اپنے بچوں کو اچھے لوگوں کی سچی کہانیاں سنائیں-  اس پر بحث کریں-  کہانی میں برے کردار اچھے ہوتے یا اچھے کردار برے ہوتے تو کیا ہوتا-  اچھے کے اچھے ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے-  برائی کو ختم کرنا کیوں ضروری ہے-  


یہ سب کچھ کریں اس سے پہلے کہ آپکا بچہ اسکول جانے کے قابل ہو-  یہی اصل ہوم اسکولنگ ہے- 


ورنہ آپکا بچہ گھر سے باہر وہ سب کچھ سیکھے گا جس پر آپ بعد میں پچھتاتے ہیں-  

Saturday, 2 April 2022

بچوں کی تعلیم

 اللہ کا لاکھ لاکھ شکر احسان کہ ہماری ماؤں کو اس نے شعور عطا فرنایا-   امّی نے ہمیشہ اس بات کا احساس دلایا کہ "ہم تمہیں تعلیم اس لئے دلوا رہے ہیں کہ کل تمہیں اپنی اولادوں کے لئے دوسروں کے آگے خوار نہ ہونا پڑے"- 


اور یہ بات ہم بہن بھائیوں نے یاد رکھی اور اپنے بچوں کو صرف اسکولوں کے آسروں پر نہیں چھوڑا-  ٹیوشنز کبھی نہیں دلوائیں-   خود ہی ان پر توجہ دی-  تعلیمی عمل میں انکو وقت دیا-  


بچوں کی تعلیم و تربیت والدین کا فرض ہے-  


بالخصوص کرونا وائرس کا بعد سے جو دنیا کے حالات چل رہے ہیں اب وہ پلٹنے والے نہیں-  اور آگے بہت چیلنجز قطار لگاۓ کھڑے ہیں- 


ایسے میں والدین کو دوبارہ اپنی ذمّہ داری سنبھالنی ہوگی-  ورنہ یہ نسل اور آگے کی نسلیں جہالت اور گمراہی کی نظر ہو جائیں گی-   


اب زمانہ واپس ہوم اسکولنگ پر آگیا ہے-  ہوم اسکولنگ کوئی نئی چیز نہیں-  اسکولز نہ ہونے سے پہلے لوگ گھروں میں ہی تعلیم دیا کرتے تھے-  


باہر ملکوں میں پچھلے پچیس تیس سالوں میں بہت سے لوگ ہوم اسکولنگ کو ترجیح دینے لگے اور اپنے بچوں کو اسکولوں سے ہٹا لیا-  کیونکہ انہیں اس حقیقت کا اندازہ ہو چکا تھا خاص طور پر سرکاری اسکولز بچوں کی زندگی، انکی اخلاقیات، انکی شخصیت برباد کرنے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں-  


بد قسمتی سے پاکستان میں لوگ ابھی تک پرائیویٹ اسکولز کی تعلیم اور انگریزی زبان کو ہی ترقی کا راستہ سمجھتے ہیں-  اور سرکاری اسکولز کو بہتر بنانے میں اپنا کوئی کردار بھی ادا نہیں کرتے-  

Friday, 3 April 2020

پھول اور خوشبو جیسے لوگ

میری نانی بہت سیدھی سادھی خاتون تھیں-  اپنے زمانے کی ٩٩ فیصد خواتین کی طرح گھر سے تنہا اور بلاوجہ نکلنے کی عادت نہیں تھی انہیں-  حیا اور پاکیزگی کی علمبردار-  نانا کے زندگی میں ایک مرتبہ ڈولی والے نے ایک گلی آگے چھوڑ دیا تو پریشان ہو گئیں کہ یہ کہاں چھوڑ گیا-  اسی لئے کبھی ہمارے ساتھ گھومنے پھرنے نہیں گئیں کہ پتہ نہیں وہاں کون ہوگا-  

ہمّت اتنی تھی کہ نانا کے انتقال کے بعد ساری زندگی انکی محبّت میں گزار دی-  عصر وقت اکثر مناجات پڑھتیں تو نانا سے بھی مناجات کی طرح گفتگو کرتیں- باجی بتاتی ہیں کہ ١٩٧١ کی جنگ میں جب سائرن بجتا تو نانی امّی سارے بچوں کو لے کر بیڈ کے نیچے گھس جاتیں اور سب کو کہتیں کہ کپڑا منہ میں رکھ لو-  دعائیں کرتی رہتیں-  

محبّت اتنی کہ اپنی اولادوں اور پھر انکے بچوں کے لئے بھی پریشان ہو جاتیں-  چوٹ نہ لگ جاۓ-  گر نہ جاۓ- کوئی لے نہ جاۓ-  کھو نہ جاۓ-  سو گیا کہ نہیں-  جاگ گیا کہ نہیں-  کھانا کھا لیا کہ نہیں-  اسکول سے آگیا کہ نہیں-  دیر کیوں ہو گئی-  طبیعت خراب تو نہیں-  دوا کھلادی دی کہ نہیں-  ہزاروں فکروں میں گھری ہوتیں لیکن تمام فکریں دوسروں سے متعلق-  

عزت اتنی تھی کہ انکے صبر، حیا اور سمجھداری کی وجہ سے محلّے والے ادب کر تے تھے-  خود تو محلّے میں جاتی نہیں تھیں-  خواتین ہی آتی تھیں کہ بچے کے سر پر ہاتھ رکھ دیں تو اسے شفاء مل جاۓ گی-  یا گھریلو حالات ٹھیک ہونے کی دعا دے دیں-  وغیرہ وغیرہ-  سوشل نہیں تھیں اور نہ ہی بلاوجہ باتیں کرنے کی عادت-  اس لئے کام کی بات ختم ہوتے ہی محلّے والیوں کو گھر بھیج دیتیں-  خواتین بھروسہ کرکے اپنی امانتیں بھی رکھوا جاتیں-  

نانی امّی کے بچپن کے زمانے کے کھانے بڑے سادے ہوتے تھے-  اس وقت لوگ پراٹھا یا روٹی اچار، مختلف قسم کی چٹنیوں اور آم سے بھی کھا لیا کرتے تھے-  سفید چاول بچ جائیں تو دوسرے وقت اس میں دودھ چینی ڈال کر کھا لیتے-  روٹیاں بچ جاتیں تو انکو دال اور مصالحہ میں ڈال کر گھٹالہ بنا لیا جاتا- سوجی کے حلوے کے ساتھ پوریاں، سویّاں، میٹھا پراٹھا چاۓ کے ساتھ-  سالن پکانا ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا-  گوشت میں آلو گوشت ہی مشہور تھا جو کہ شادیوں میں پکتا تھا تندور کی روٹیوں کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا-  یا اسکے علاوہ شامی کباب-  اور مہمان اکثر رشتہ دار ہی ہوتے تھے جو چند گھنٹوں کے لئے نہیں آتے تھے بلکہ رکا کرتے تھے ایک دو دن-  تو انکے لئے بھی کوئی تکلّفات نہیں ہوتے تھے-  جو گھر میں روز پکتا تھا وہی مہمان بھی کھاتے-  


اس وقت فقیر لوگ چند محلّوں کا انتخاب کرتے اور یا تو دوپہر ورنہ اکثر مغرب کے وقت سدا لگاتے-  پتہ ہے کیوں؟  کیونکہ پہلے رات کا کھانا مغرب کے وقت تک پکایا اور کھا لیا جاتا تھا-  اور جو بچ جاتا تو وہ مانگنے والوں کو دے دیا جاتا-  کیونکہ فرج تو ہوتے نہیں تھے اس زمانے میں-  

نانی امّی کو اپنے چپل اور اپنا دوپٹہ بہت عزیز تھا کہ کوئی ادھر سے ادھر نہ کردے صفائی میں-  اس لئے ہر وقت دھیان رکھتیں انکا-  بس میں انکو اس معاملے میں بہت تنگ کرتی تھی کہ انکی چپلیں دروازے پر رکھ کر آجاتی تھی اور پھر وہ امّی سے شکایت کرتی تھیں-  اور مجھے ڈانٹ پڑتی تھی- 

نانی امّی کو گھڑی دیکھنی نہیں آتی تھی-  وقت کا اندازہ وہ دھوپ سے لگاتیں-  اگر دھوپ سیڑھیوں تک آگئی تو ایک بجا ہے اور اگر دھوپ دیوار تک آگئی تو تین بجے ہیں-  اسی حساب سے انکو بچوں کے اسکول کالج سے آنے کا پتہ چلتا تھا-  لہٰذا وہ دھوپ کا بہت خیال رکھتیں-  

١٩٨٢ میں شعبان میں جب انکا انتقال ہوا تو ہم بچوں سمیت سب روزانہ قرآن پڑھتے-  اورچالیسویں تک ہم گھروالوں نے ہی چالیس قرآن ختم کر لئے تھے-  

شروع شروع میں تو سخی حسن جاتے تھے انکی قبر پر-  پھر ہم سب اپنی اپنی زندگی میں مگن ہو گۓ-  اور بس شعبان میں ہی نانا، نانی، دادا، دادی کی نیاز دلا دیتے-  کیونکہ نانا کا انتقال بھی شعبان میں ہوا تھا-  بس بڑی خالہ کا ایک نوکر تھا جو مرتے دم تک اس قبر کا دھیان کرتا رہا- پھر اسکے بعد وہیں کے کسی شخص نے خیال رکھنا شروع کردیا جسے پیسے دے دیے جاتے-  

چند سال پہلے میں نے نانی کی قبر کو ڈھونڈنا شروع کیا-  وہ قبرستان اتنا بھر گیا ہے کہ قبر ڈھونڈنا مشکل ہوگیا-  ہر شعبان میں کوشش ہوتی کہ شاید نانی کی قبر مل جاۓ-  ڈھونڈتے ڈھونڈتے مغرب ہو جاتی-  لیکن کامیابی نہیں ہوتی تھی-  اور گلاب کے پھول اورعرق گلاب دوسری قبروں پر ڈال کر واپس آنا پڑتا-

پچھلے سال شعبان میں بھی اس امید کے ساتھ قبرستان گئی-  اور مغرب سے چند منٹ پہلے ناکامی کے ساتھ واپس آرہی تھی تو گیٹ تک چلتے چلتے میں نے دعا کی کہ یا اللہ اس مرتبہ تو دکھا ہی دیں نانی کی قبر-  گیٹ پر پہنچ کر میں نے ایسے ہی پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک گلی نظر آئی-  جی میں آیا کہ اس گلی کو بھی دیکھ ہی لوں-  میں واپس پلٹ کر اس گلی کے کونے تک گئی تو دیکھا وہاں ایک شخص کھڑا تھا-  اس نے اشارے سے پوچھا کس کی قبر تلاش کر رہیں ہیں-  میں نے کہا اپنی نانی کی-  انکا نام محمودہ بیگم ہے-  اس نے کہا انکے شوہر کا نام محمود حسن رضوی ہے-  میں کہا ہاں-  تو اس نے مجھے اشارے سے اپنی والی سائیڈ پر بلایا اور کہا کہ یہ رہی قبر-  وہ قبر ٣٧ سال کے بعد بھی ویسی ہی تھی-  سواۓ اسکے کہ اسکے آس پاس قبریں ہی قبریں تھیں-  اس دن مجھے یقین آیا کہ اگر تڑپ ہو تو دعائیں چند سیکنڈز میں اس طرح قبول ہوتی ہیں-   

اس آدمی نے بتایا کہ اسے پیسے ملتے ہیں ماہانہ اور وہ قبر کا خیال رکھتا ہے-  میں نے اسی سے اور گلاب کے پھول منگواۓ اور قبر کے کنارے بیٹھ کر سورہ الفاتحہ، چند آیات سورہ البقرہ، چاروں قل اور درود شریف پڑھا-  اور واپس جانے کی کی-  اور چلتے چلتے احساس ہوا کہ ایک خوشبو ساتھ ساتھ چل رہی ہے-  میں نے اپنے ہاتھ سونگھے کہ شاید گلاب کے پھولوں یا عرق گلاب کی ہے-  لیکن یہ مخلتف خوشبو تھی-  تیز-  اور وہ قبرستان کے گیٹ تک میرے ساتھ رہی-  اور پھر ساتھ چھوڑ گئی-  

میں نے امّی اور باجی سے اس بات کا ذکر کیا- تو انہوں نے پہلی بات یہی کہی کہ نہایت صابر اور حیا دار تھیں-  

ایسے ہوتے تھے خوشبو اور پھولوں جیسے لوگ-  جن سے رحمتیں گھر میں برستی تھیں-  

لیکن پھر ہم نے ترقی کرنی شروع کردی- 

اور اب پھولوں اور خوشبوؤں جیسے لوگ ڈھونڈے سے نہیں ملتے- 

اللہ سبحانہ و تعالیٰ میرے ان تمام بزرگوں کو جو انتقال فرما چکے ہیں-  انکی مغفرت فرمائیں اور وہ نور اور خوشبو کے ساتھ قیامت کے دن اٹھاۓ جائیں-  آمین 


Sunday, 17 June 2018

بچوں کی عید

عید کا مطلب ہے خوشی-  بڑوں کی عید تو یہ ہے کہ انہوں نے رمضان کو پا لیا-  اپنے گناہ بخشوا لئے-  اپنے رب کو منا لیا- بچوں کو رب، گناہ، ثواب کا مطلب نہیں پتہ ہوتا- اسی لئے بچوں کی عید کا مطلب ہے صرف خوشی-  

عید ہمیشہ بچوں کی ہی ہوتی ہے- عید اچھی بنانی ہو- معاشرہ اچھا بنانا ہو-  پاکستان اچھا بنانا ہو یا پھر دنیا کا مستقبل اچھا بنانا ہو- اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ 
"ہر شہر اور ہر علاقے اور ہر طبقے کے بچوں کو خوش رکھیں"

بچوں کو خوش رکھنے میں معاشرے کے بے شمار فائدے ہیں جنہیں بیان بھی نہیں کیا جاسکتا-  لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کی خوشیوں کو سیاست اور ریاکاری کی نظرنہ کریں- ان پر غریبی اور بے چارگی کا لیبل نہ لگائیں کیونکہ انکی عزت نفس شیشے سے زیادہ نازک، دل آئینے سے زیادہ شفاف اور انکی ذات الله کی نشانیوں کی طرح مقدّس ہوتی ہے- 

بچے بچپن میں خوش رہتے ہیں تو
١) دوسروں کو خوش رکھنا انکی شخصیت کا حصّہ بنتا چلا جاتا ہے-  
٢) ہر حال میں خوش رہنا سیکھ جاتے ہیں-  
٣) چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونے کے عادی ہو جاتے ہیں- 
٤) دوسروں کو خوشی کو فوقیت دینا شروع کر دیتے ہیں-  
٥) شکایتیں کرنا بھول جاتے ہیں-  
٦) جو انہیں خوش رکھتا ہے اسکی عزت کرتے ہیں- 
٧) انکی زندگی چھوٹی چھوٹی خواہشات کی حسرتوں میں کسی مقام پر رکتی نہیں- 
٨) انکی شخصیت میں اونچ نیچ اور امیر غریب کا احساس پیدا نہیں ہوتا- 
٩) انکے دلوں میں معاشرے کے کسی بھی طبقے کے لئے انتقام نہیں پیدا ہوتا- 
١٠) اچھی سوچیں اور اچھے خواب دیکھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے- 
١١) معاشرے کے بالغ افراد پر بھروسہ کرنے لگتے ہیں- 
١٢) جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں ورغلاۓ نہیں جاتے- 
١٣) اپنے معاشرے اور اپنی قوم سے محبّت کرنا سیکھتے ہیں-
١٤) ایک قوم ہونے کا احساس لے کر بڑے ہوتے ہیں-  

بچوں کی خوشیاں انکے چھوٹے چھوٹے شوق جو کہ انکے خواب ہوتے ہیں انکو پورا کرنے میں چھپی ہوتی ہیں-  بچوں کے خواب بہت سستے ہوتے ہیں- چپس، چھولے چاٹ، آئسکریم، میکڈانلڈز کا برگر، گھوڑے اور اونٹ کی سواری، جھولے، پانی میں چھلانگیں، گھاس پر دور تک دوڑیں لگانا، درختوں پر چڑھنا، بھیڑوں بکریوں کو چرانا، یا پھر کہانیاں سننا اور پڑھنا وغیرہ-  لیکن یہ خواب بہت قیمتی بھی ہوتے ہیں کیونکہ ان سستے خوابوں کی تکمیل سے ہی انکی شخصیت میں یقین اور اعتماد پیدا ہوتا ہے-  

کیا (ایسے معاشرے کے لئے جو دنیا میں خیرات و صدقات دینے کے لئے پہلے نمبر پر ہو) بچوں کے ان خوابوں کو پورا کرنا ناممکن ہے اور وہ بھی فوٹو شیشنز اور میڈیا دکھاوا اور ریاکاری کئے بغیر؟  روزانہ بکروں پہ بکرے ذبح کرکے غریبوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کروڑوں کا چندہ لٹانے والے اپنے معاشرے کے بچوں کو ایک محفوظ اور خوشگوار ماحول دینے کے قابل نہیں؟  بچوں کو گوشت خوری کی نہیں بلکہ خوشیوں کی ضرورت ہوتی ہے- 

کتنا خرچہ آتا ہوگا ایک پارک کو بچوں کے نقطہ نظر سے بسانے پر جہاں بچوں کا داخلہ مفت ہو؟  کتنا خرچہ آتا ہوگا کسی علاقے میں بچوں کے لئے گھوڑوں کا اصطبل بنانے پر جہاں بچوں کا داخلہ مفت ہو؟  کتنا خرچہ آتا ہوگا صرف بچوں کے لئے اصلی گھاس اور پھولوں کے میدان بنانے پر اور درخت لگانے پر؟  کتنا خرچہ آتا ہوگا جگہ جگہ چھوٹی چھوٹی لائبریریز بنانے پر جہاں معاشرے کے بزرگ بچوں کو قصّے کہانیاں اور کتابیں پڑھ کے سنائیں؟    

یہ کام حکومت کے تو نہیں ہوتے-  حکومت تو بڑے لیول پر معاشرے میں امن و امان قائم رکھنے اور صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی ذمّہ دار ہوتی ہے-  عوامی لیول پر معاشرے کے لوگ ایک دوسرے کو تعلیم دیتے ہیں-  معاشرے کے لوگ صحت و صفائی کا خیال رکھتے ہیں-  معاشرے کے لوگ ایک دوسرے کو روزگار فراہم کرتے ہیں-  معاشرے کے لوگ ایک دوسرے کی جان و عزت و مال کے محافظ ہوتے ہیں-  اور بد عنوان اور جرائم پیشہ لوگوں کے لئے پولیس کا محکمہ ہوتا ہے جس میں عام لوگوں میں سے ہی لوگ بھرتی کئے جاتے ہیں کہ وہ عام عوام کی جان و مال و عزت کی حفاظت کے انتظامات کریں-  ان سے اوپر عدالتیں ہوتی ہیں-  

ہر کام حکومتوں پر نہیں ڈالا جاتا کیونکہ حکومتیں کر نہیں سکتیں مائیکرو مینجمنٹ-  شہروں، سڑکوں، گلیوں پر چوبیس گھنٹے لوگ رہتے ہیں اسی لئے لوگوں کا کام ہے سڑکوں، گلیوں اور شہروں کو محفوظ بنانا- 

رسول الله صلی الله علیہ وسلّم کی زیادہ تر احادیث عام لوگوں کے ایک دوسرے پر حقوق سے متعلق ہیں-   

حضرت عبدالله ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلّم نے فرمایا، "تم میں سے ہر کوئی راعی ہے اپنے ریوڑ کا-  
حکمران عوام کے-  آدمی اپنے خاندان کا-  
عورت اپنے شوہر کے گھر اور بچوں کی-  
ملازم اپنے مالک کے مال کا-"

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَالْإِمَامُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى أَهْلِ بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ

جو معاشرہ اپنے بچوں کی خوشیوں اور انکی جان و عزت کے تحفّظ کا انتظام نہیں کرسکتا وہ دنیا کا سب سے بدترین معاشرہ ہوتا ہے اور اسکے بہترین سے بہترین تعلیم یافتہ اور باہنر افراد  کی صلاحیتیں بھی زیرو ہوتی ہیں-  اور ایسے معاشرے کے تمام عالم جاہل اوردینی علماء و فقہاء کا ایمان صفرہوتا ہے-  

Sunday, 18 March 2018

کورس کی کتابیں

کورس کی کتابیں طلباء کی جسمانی صحت ہی نہیں انکی ذہنی صلاحیتوں کی بھی دشمن ہیں- 

کورس کی کتابوں میں کس کا فائدہ ہے؟  مالی فائدہ پبلشرز کا، اسکول ایڈمنسٹریشنز کا، دکانداروں کا 

طلباء کو کیا ملا؟  ذہنی اور جسمانی اذیّت 

نظام تعلیم میں جس انقلاب کی ضرورت ہے وہ کورس کی کتابیں مشکل کرنا نہیں بلکہ کورس کی کتابوں کا خاتمہ ہے-  

کورس کی کتابیں چند ڈگری یافتہ لوگوں نے ایک کمرے میں بیٹھ کر لکھی ہوتی ہیں-  انٹرنیٹ کے بعد ان ڈگری یافتہ لوگوں کو یہ آسانی ہو گئی ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کی ورک شیٹس سے سوالات اٹھا کر ایک کورس بنا لیتے ہیں اور وہیں سے نۓ آئیڈیاز بھی مل جاتے ہیں-  

اتنے سالوں سے اس تعلیمی نظام نے لوگوں کو اتنا ذہنی معذور بنا دیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کورس کے بغیر پڑھائی نہیں ہو سکتی، تعلیم حاصل نہیں کی جا سکتی- بلکہ دولت کمانے کے لئے اس ذہنی معذوری کو باقاعدہ فروغ دیا گیا ہے- اور عوام تو بھیڑ بکریوں کی طرح ہوتی ہے- دور اندیشی اور جہاں بینی کی صلاحیتوں سے محروم- جہاں سب جارہے ہوں اسی راستے پر چل پڑتی ہے-

تعلیمی انقلاب وقت کی اہم ضرورت ہے- آج کا تعلیمی نظام غلامانہ سوچ کو پروان چڑھاتا ہے-  صرف یس سر یس میڈم کی عادت ڈلانے والا نظام- نقل کرنے کے رجحان کو بڑھانے والا نظام-  سکول اونرز اور پبلشرز کو امیر کرنے والا نظام-  الله اور اسکے نظام کائنات سے دور لے جانے والا نظام-  بچوں کو تھکا دینے والا نظام-  اخلاقی اور قانونی کرپشن کو فروغ دینے والا نظام-  اس تعلیمی نظام میں سے ہر اس چیز کو نکالنا ضروری ہے جو انسان کو الله سے، اسکی قدرتوں سے، اپنے ماحول سے اور خود انسانوں سے غافل کر دیتی ہے-  

کتابیں کلاس رومز میں ہونی چاہئیں- بچوں کی کمر پر نہیں-  اور جو کچھ کتابوں کے اندر لکا ہے وہ بچوں کے دماغوں کر اندر- اور اس پر باقاعدہ قوانین ہونے چائیں-

الله نے جس طرح امن کے لئے جنرل راحیل شریف کو فرشتہ بنا کر بھیجا تھا-  

اسی طرح عدل و انصاف کے لئے چیف جسٹس نثار ثاقب کو اور نظام کی تبدیلی کے لئے عمران خان کو-  

تو اس قوم کے بچوں کو امیدیں بھی انہی سے ہیں-  


Sunday, 11 March 2018

کام کرنے کی صلاحیتیں

ہمارے معاشرے میں تعلیمی عمل کو زندگی کا حصّہ سمجھنے کے بجاۓ ایک دس، بارہ یا سولہ سالہ ہیبت ناک کاروائی بنا دیا جاتا ہے-  جس کے نتیجے میں بچوں کی فطری صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں اور کچھ نافذ کردہ مہارتیں اور نظریات ان کی شخصیت کا حصّہ بن جاتے ہیں جو انہیں ایک خود مختار انسان بننے کی بجاۓ ایک غلامانہ سوچ رکھنے والا بے اختیار فرد بنا دیتے ہیں جس کے نزدیک پاکستان میں جو اچھا ہے وہ سب ناممکن اور پاکستان سے سب ممکن ہوتا ہے-  اور جو ہمیشہ دوسروں پر انحصار کرتا ہے اور دوسروں کو اپنی ناکامی کا ذمّہ دار ٹھراتا ہے- 

اسکی وجوہات میں سب سے بڑا حصّہ والدین کا ہے اور اسکے بعد اسکولنگ سسٹم کا ہے- جو بچوں کو کچھ اچھا کرنے نہیں دیتے بلکہ حوصلہ شکنی کرتے ہیں-  ڈراتے رہتے ہیں-  پھر تعلیم کے نام پر ہزاروں لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن زندگی گزارنے کے ہنر سکھانے پر ایک روپیہ اور ایک منٹ بھی صرف کرنا فضول سمجھتے ہیں-  اسکولوں کے لمبے لمبے اوقات ویسے ہی طلباء کے لئے عذاب ہو جاتے ہیں-  چوبیس گھنٹوں میں سے اگر آٹھ گھنٹے اسکول، دو گھنٹے مدرسہ اور دو گھنٹے ٹیوشن پڑھیں گے تو کب سوئیں گے اور کب کھیلیں گے-  اور کب اپنی عمرکے مطابق شوق پورے کریں گے- اور پھر تمام مضامین میں سو میں سے سو نمبرز بھی آنے ہیں- 

حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ امریکہ کی طرح بچوں کو تیرہ چودہ سال کی عمر سے ہی کچھ کچھ گھنٹوں کے لئے جاب کا عادی بنانا چاہئے تاکہ انہیں کام کر تجربہ ہو، لوگوں سے معاملات طے کرنا آسکیں، محنت کی عظمت کا اندازہ ہو، پیسہ کی اہمیت کا اندازہ ہو کہ کتنا مشکل ہوتا ہے دولت کمانا جسے والدین ایک اسکول اونر اور پرنسپل کو امیر کرنے پر خرچ کر دیتے ہیں- اسکے علاوہ بھی اسکے بے شمار فائدے ہیں-  

اور یہ کوئی مغربی طرز زندگی نہیں بلکہ خود ہمارے ملک میں کتنے بچے بغیر پڑھے لکھے مزدوریاں کر رہے ہوتے ہیں-  باہر ملکوں میں ایسے طلباء کو کریڈٹس دئیے جاتے ہیں انکی رپورٹ کارڈ میں- جبکہ ہمارے ہاں ایسے بچوں کو طعنے دئیے جاتے ہیں کہ پڑھنے میں دل نہیں لگتا اس لئے یہ کام کا بہانہ کر رہا ہے-  اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اس طرح صرف بیٹھ بیٹھ کر کورس کی کتابیں رٹنے کے نقصانات کتنے ہیں- ایک ٹین ایجر کا دل رسمی اور تھوپی گئی پڑھائی میں نہیں لگتا- اسے ایڈونچر چاہئے ہوتا ہے- چھوٹے چھوٹے خود کئے ہوۓ کاموں میں کامیابی کا احساس چاہئے ہوتا ہے- اس عمر کے بچے اپنی پہچان چاہتے ہیں- اور جب یہ سب انکو مل جاۓ تو تھوڑے عرصے بعد نارمل انسان بن کر زندگی کے مختلف شعبوں میں سنجیدگی سے حصّہ لیتے ہیں- اور اگر بچوں کو انکی عمر اور فطرت کے مطابق ماحول نہ ملے تو پھر وہ بڑے ہو کر الٹی سیدھی حرکتیں کرتے ہیں جیسے کہ اکثر انعامی شوز میں دیکھنے میں آتا ہے کہ تیس، چالیس، پچاس اور کبھی تو اس سے بھی زیادہ عمر کے لوگ ذرا سی گاڑی، سونا اور چھوٹے چھوٹے انعام کے چکّر میں احمقانہ حرکتیں کر کے بچوں کی طرح خوش ہورہے ہوتے ہیں- لگتا ہے پاکستان کی ساری سوشل سرگرمیاں صرف سٹوڈیوز تک محدود ہو گئی ہیں- 

الله سبحانہ و تعالیٰ نے انسان کو یعنی مردوں اورعورتوں دونوں کو مشقت کرنے والا بنایا ہے اور انکی فطرت میں جستجو رکھی ہے-  جب یہ فطرت پر پابندی لگائی جاتی ہے تو پھر اسکا غلط استعمال شروع ہوجاتا ہے-  خواتین اپنی جستجو کا دائرہ خاندان اور پڑوسیوں کر گھریلو حالات جاننے تک محدود کر دیتی ہیں- جبکہ لڑکے معاشرے کے غلط افراد کے ایکشن پلان کا حصّہ بن جاتے ہیں-  اس میں نشہ، لوٹ مار، چوری ڈاکہ جیسی چیزیں شامل ہو جاتی ہیں-  

کراچی جیسے بڑے اور مصروف شہر میں خاص طور پر لڑکوں کے لئے کوئی ایسی جگہیں نہیں جہاں وہ کم قیمت پر سائکلنگ، سکیٹنگ، سوئمنگ، کیمپنگ. فشنگ، ہارس رائیڈنگ، وغیرہ جیسی ایکتیوٹیز کر سکیں- اور جو جگہیں ہیں ان پر امیروں کی اولادوں کا قبضہ ہے کیونکہ وہاں داخلہ اتنا مہنگا کہ کوئی مڈل کلاس افورڈ ہی نہ کر سکے-  الله سبحانہ و تعالیٰ نے ان میں جتنی توانائی بھری ہے وہ کدہر نکالیں- پھر وہ پبلک پراپرٹیز خراب کرتے ہیں، توڑ پھوڑ کرتے ہیں، لوگوں کو تنگ کرتے ہیں-  پبلک پارکس کا حال سامنے ہے-  بہت سے پبلک پارکس کو ماربل کا استعمال کر کر ہے قدرتی کے بجاۓ شاہی باغ بنا دیا گیا ہے- 

اسکے علاوہ چودہ پندرہ سولہ سال کے لڑکے کچھ نہ کچھ کام کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ انکی فطرت ہے- وہ صرف اور صرف بیٹھ کر کورس کو رٹنا نہیں چاہتے-  کراچی میں کیوں لڑکوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی کہ وہ چودہ پندرہ سال کی عمر سے کچھ گھنٹے کام کر کے اپنے چھوٹے موٹے خرچے خود پورے کریں-  اتنے سارے بزنسز اور آفیسز ہیں-  اتنی ساری غیر سرکاری تنظیمیں اور خیراتی ادارے ہیں جہاں اچھا معیاری کام کرنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے-  جب لڑکے خود کام کریں گے تو مزید اور بہتر کام کرنے کے مواقع بھی خود ہی تلاش کریں گے-  اور کرسی اور اے سی والے کمرے میں کام کرنے کے خوابوں سے باہر نکلیں گے-  کیونکہ ماسٹرز کے لیول کی ڈگری لینے کے بعد تو ان نو جوانوں میں چند گھنٹے کھڑے ہو کر کام کرنے کی ہمّت بھی نہیں رہ جاتی- انکی ڈگری جتنی بڑی ہوجاتی ہے، سوچ اور ہمّت اتنی ہی چھوٹی- 

Tuesday, 20 February 2018

نقل کرنے سے بہتر

فیل ہونا نقل کرکے پاس ہونے سے بہترہے-  اور فیل ہونے سے بہتر یہ طریقے ہیں جو آزمودہ بھی ہیں اور آسان بھی-  بچوں کو اگر اس بات کی ترغیب دی جاۓ گھر اور اسکولوں میں تو نقل کے رجحان کو بہت حد تک روکا جا سکتا ہے-  

اسکول کالجز کے طلباء میں نقل کا رجحان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور اب تو بہت سے والدین، طلباء اور خود اساتذہ اور اسکول منجمنٹس بھی اسے کوئی اخلاقی جرم نہیں سمجھتے-  اور اکثر والدین خود اسکی ترغیب بھی دے رہے ہوتے ہیں کہ اپنے دوست سے پوچھ لینا-  دوستوں میں دوستی کی شرط بھی یہی ہوتی ہے کہ امتحان جیسی مشکل میں ساتھ دینا -  

نقل کے رجحان کی وجوہات بہت ساری ہیں-  
١) ہائی اسٹینڈرڈ تعلیم کے نام پر بچوں پر انکی عمر اور ذہنی اور جسمالی صلاحیت یا قابلیت سے زیادہ سلیبس کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے اور بچوں کی ذہانت کو جانچنے کے لئے ان کو مشکل مشکل سوالات اور مشقیں یاد کروائی جاتی ہیں-  جبکہ وہ اپنے بڑوں اور اساتذہ کو کبھی اتنا پڑھتے لکھتے نہیں دیکھتے- 

٢) جلدی کورس ختم کرانے کے چکّر میں تدریس کے غیر معیاری اور مشکل طریقے استعمال کئے جاتے ہیں-  جب بچوں کو کچھ پڑھنے، لکھنے اور یاد کرنے میں مشکل ہوتی ہے تو وہ نقل کا سہارا لیتے ہیں- 

٣) اساتذہ کا طلباء اور تعلیم سے بیزار رویہ ہونا- طلباء کے سوالات کے جوابات نہ دینا-  ان سے روکھے پھیکے انداز میں بات کرنا-  انکے مشاغل اور شخصیت میں دلچسپی نہ لینا- 

٤) بچوں کو اپنے فیل ہوجانے کا خوف، بدنامی کا خوف- پابندیوں کا خوف- 

٥) آۓ دن کے ٹیسٹ اور امتحانات کی وجہ سے سوالات جوابات کے رٹے لگانا جس کی وجہ سے ذہنی صلاحیتوں اور یاداشت پر برا اثر پڑتا ہے- 

٦) ایک جیسا کورس اور ایک جیسے امتحانات کے پیپرز-

٧) گھروں میں نظم و ضبط اور گھر کے افراد کے درمیان تعاون کی کمی- گھروں میں تعلیمی ماحول کا نہ ہونا-  گھروں میں غیر اخلاقی ماحول- 

بچوں میں نقل کے رجحان کو کیسے روکا جا سکتا ہے-  

١) پہلے تو اوپر بیان کی گئیں وجوہات کا سدّباب کیا جاۓ- 

٢) دوسرے یہ کہ بچوں کو اسکول میں اس طرح مشقیں اور سوالات کرنے کی عادت ڈالی جاۓ کہ انکے جوابات ایک دوسرے سے مختلف ہوں- ایک مرتبہ بچے کو انفرادیت کی عادت پڑ جاۓ تو پھر وہ نقل کرنے کے بجاۓ اپنے ہی کسی طریقے کی طرف دھیان دیتا ہے جو اسے منفرد بنانے-  انگلش اور اردو میں حروف سے الفاظ اور الفاظ سے جملے بناتے وقت ہر بچے سے مختلف الفاظ اور جملوں کا تقاضہ کیا جاۓ- مضمون، خط اور درخواست کے لئے ایک ہی جیسے عنوان کے بجاۓ ہر بچے کو مختلف عنوان دئیے جائیں-  حتیٰ کہ اگر ممکن ہو تو امتحانات کے پیپرز بھی ہر بچے کے مختلف ہوں یا پھر سوالات آگے پیچھے کردئیے جائیں-  

٣) بچوں کو اکثر اردو اور انگلش کے سوالات کے جوابات، الفاظ، جملے، مضمون، خط، درخواست اور گرامر یاد کرنے کو دے دی جاتی ہے-  بڑوں کو یہ بات کیوں نہیں سمجھ آتی کہ بچوں کو نہیں پتہ کہ ان سب چیزوں کو یاد کیسے کیا جاتا ہے-  انہیں بتانا پڑتا ہے- خود اس طریقے کو کر کے بچے کو سکھانا ہوتا ہے کہ دیکھو ایسے یاد کیا جاتا ہے-  پہلے اسپیلنگ کو پانچ دس مرتبہ دیکھ کر پڑھو اور پھر پانچ مرتبہ بغیر دیکھ کے کہو اور پھر ایک مرتبہ لکھو اور دیکھو صحیح ہے کہ نہیں-  شروع میں بچے کو الجھن ہوتی ہے پریشانی ہوتی ہے لیکن پھر وہ عادی ہو جاتا ہے-  تھوڑے عرصے بعد بچے کو اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی اور جلد اسپیلنگ یاد ہو جاتی ہے-  بلکہ اگر بچے کی اس صلاحیت کی حوصلہ افزائی کی جاۓ تو وہ بغیر خود ہی شوق سے الفاظ اور جملے اور مختلف چیزیں یاد کر کر کے سناتے رہتے ہیں- 

٣) بچوں کا سلیبس ہمیشہ انکی عمر اور ذہنی استعداد کے مطابق ہونا چاہئے اور طریقہ کار آسان اور جلد سمجھ میں آنے والا ہونا چاہیے-  بچوں کو کورس کی کتابوں کا عادی نہیں بنانا چاہئے-  بلکہ اسے کھلے مطالعے کی عادت ڈالنی چاہئے-  تاکہ اسکے مطالعے کا شوق پروان چڑھے اور رٹے رٹاۓ جملوں پر انحصار کم سے کم ہوتا جاۓ- 

٤) بچے کو کلاس میں اور گھر میں کام کرتے وقت اگر صحیح طریقے سے رہنمائی کی جاۓ اور اسکے ساتھ بیٹھ کر اسکے کام کو آسانی سے کرنے میں مدد کی جاۓ تو بچے وہ کام یا موضوع اس دن یا وقت کے حوالے سے یاد رکھتے ہیں-  اور اسکا حوصلہ بڑھتا ہے-  

٥) بچوں میں اگر شروع سے یہ عادت ڈال دی جاۓ کہ جو بات یا موضوع تمہیں سمجھ آگیا ہے اسے کم از کم دو اوربچوں کوسکھائیں- تو اس سے ایک تو بچے کی خود اپنی دہرائی ہو جاتی ہے دوسرے اس میں دوسروں کی مدد کا جذبہ پروان چڑھتا ہے-  اور سب سے بڑھ کر کم عمری میں ہی تدریسی صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں-

بچوں کی شخصیت کا انحصار بچپن کے تجربات پر ہوتا ہے-  اس لئے معاشرے اور ماحول کو بچوں کے لئے محفوظ، خوشگوار اور خوبصورت بنانا ہر با شعور فرد کا فرض اور اسکو قائم رکھنا حکومت کی ذمّہ داری ہے-  



Sunday, 18 February 2018

انگریزی زبان

انگریزی بھی ایک عجب زبان ہے- جب تک بچے انگریزی نہ بولیں نہ والدین کو تسلّی ہوتی ہے کہ وہ کچھ سیکھ رہے ہیں اور نہ ہی اسکول والوں کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ وہ کچھ پڑھا رہے ہیں-

بچوں کے لئے انگریزی سیکھنا جتنا شدید ترین مسلہ ہے- اسکولز کے لئے انگریزی سکھانا اتنا ہی بدترین مسلہ ہے- اور سکھانی بھی ہے انگریزوں کے طریقوں سے-  انگریزوں کی تو وہ مادری زبان ہے اس لئے انکے تعلیمی ادارے گرامر پرجلد اور زیادہ توجہ دینے لگ جاتے ہیں-  لیکن جن ملکوں کی مادری اور قومی زبان انگریزی نہیں وہ اس طریقے سے نہیں پڑھا سکتے-  یہ بات یہاں کسی کو سمجھ نہیں آتی- بدقسمتی سے اگر ایک اسکول کسی نہ کسی طرح اپنے طالبعلموں کو انگریزی لکھنا پڑھنا اور بولنا سکھادے توسارے کے سارے اسکول اس کے مقابلے میں آجاتے ہیں- ویسا ہی سلیبس، ویسا ہی کرکیولم، ویسا ہی کورس- 

پرائمری لیول پر پہلی اور دوسری جماعتوں میں ہی بچوں کو انگریزی میں مذکّرمؤنث، واحد جمع، الفاظ کی ضد، ہم آواز الفاظ، ہم معنی الفاظ، اسم، فعل، صفت، سب کچھ سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے یہاں تک کہ مضمون یاد کرواۓ جاتے ہیں- اور دوسری تیسری جماعت تک پہنچتے پہنچتے اس میں درخواست، کہانیاں اور تقریریں بھی شامل ہو جاتی ہیں جو کہ اکثر بچے گھروں سے لکھوا کر لا رہے ہوتے ہیں-  اور بچوں کو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہوتا- 

کراچی کے تعلیمی اداروں میں سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں سے بمشکل ڈیڑھ سو دن پڑھائی ہوتی ہوگی- پہلی اور دوسری جماعتوں میں انگریزی کے نصاب سے اگر کورس کی کتابیں اور گرامر نکال دی جاۓ تو بچوں کی زندگی بھی آسان ہو جاۓ اور انگریزی سیکھنا بھی- پہلی اور دوسری کلاس میں صرف انگلش قصّے کہانیاں، سچے واقعات پر مبنی اور معلوماتی کتابیں ہونی چاہئیں-  جیسے کہ مونٹیسوری طریقہ تعلیم میں ہر کلاس میں ایک 'بک کارنر' ہوتا ہے جہاں بہت سی کتابیں رکھی ہوتی ہیں تاکہ بچہ جس وقت دل چاہے ان کتابوں کا مطالعہ کرے-  سال کے ڈیڑھ سو دنوں میں بچے جتنی کتابیں پڑھ سکتے ہیں پڑھیں-  ساتھ ساتھ انکے الفاظ کی اسپیلنگ اور معنی یاد کرتے جائیں-  کتابیں آسان ہوں-  کہانیاں مختصر ہوں تاکہ سمجھ آجائیں اور واقعات کی ترتیب اور تسلسل سمجھ اسکے-  الفاظ عام فہم ہوں جنہیں بچے ادا کر سکیں، یاد کر سکیں اور اپنے جملوں میں استعمال کر سکیں-  پہلی اور دوسری کلاس کے تین سو دنوں میں اگر بچے سو چھوٹی بڑی کہانیاں پڑھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ان کو سمجھ بھی جاتے ہیں تو یہ ان بیکار بے فائدہ کورس کی کتابوں سے بہتر ہے جن کو پڑھ پڑھ کر بچے فیل ہو رہے ہوتے ہیں- 

اس طریقہ تعلیم سے ان دو سالوں میں طلباء کو کیا فائدہ ہوگا- 

١) بچوں میں بیزاری سے کورس کی کتاب جو کہ سب کے پاس ایک جیسی ہوتی ہے، اسے رٹنے کے بجاۓ مطالعے کا شوق بڑھتا ہے اور وہ نئی نئی کتابیں ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں-  

٢) اسی شوق میں بچے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے بغیر کس نصیحت اور ڈانٹ ڈپٹ کے زیادہ سے زیادہ کتابیں پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں-  

٣) تفہیم کے پہلے درجے میں بچے جتنی زیادہ کتابیں پڑھتے ہیں اتنا ہی انکے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ بہت سے الفاظ بار بار ہر کتاب میں دہراۓ گۓ ہوتے ہیں جننہیں وہ آہستہ آہستہ اپنی گفتگو میں استعمال کرنے لگتے ہیں- اور جو الفاظ نۓ ہوتے ہیں تو تحریر کو سمجھنے کے لئے بچے بار بار ان کا مطلب پوچھتے ہیں- 

٤) تفہیم کے دوسرے درجے میں الفاظ کے ساتھ ساتھ اسم، فعل، صفت، مذکّر مؤنث، واحد جمع، الفاظ کی ضد، ہم آواز الفاظ، ہم معنی الفاظ، جملوں اور زمانوں کی ترکیب بھی غیر شعوری طور پر انکے دماغوں میں جذب ہو رہی ہوتی ہے-  ماضی، حال اور مستقبل کے جملوں کا استعمال غیر ارادی طور پر انکو سمجھ آنے لگتا ہے- 

٥) تفہیم کے تیسرے درجے میں کردار اور حالات و واقعات کا تسلسل اور ترتیب سمجھ آنے لگتی ہے-  جس سے آگے جماعتوں میں کردار سازی اور مختلف انداز تحریر تخلیق کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے- 

٦) بچے جب کوئی دلچسپ کتاب پڑھتے ہیں یا کوئی انوکھی معلومات انھیں ملتی ہے تو وہ ضرور اسے دوسروں سے شیئر کرتے ہیں- اور یہ عمل اگر ایک تسلسل کے ساتھ ہو تو کمیونیکیشن اسکلز یا انداز بیاں بہتر سے بہتر ہوتی جاتی ہیں-  

٧) مختلف موضوعات کی کتابوں کے ذریعے بچوں کا رابطہ پوری کائنات سے جڑ جاتا ہے-  اور انکی امیجینیشن یا تخیلاتی صلاحیتیں یا سادہ الفاظ میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں اجاگر ہوتی ہیں-  وہ کتابیں جن جن ملکوں اور علاقوں میں لکھی گئی ہوتی ہیں ان میں ان علاقوں کے قدرتی مناظر کی عکّاسی کی گئی ہوتی ہے-  اور اکثر میں پھرملکوں ملکوں گھومنے پھرنے کا جذبہ ابھرتا ہے-  

٨) بچوں میں انسانی ہمدردی اور سوچ کی ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے-  بچے سوچنے لگ جاتے ہیں کہ دنیا کے سارے انسان ہماری ہی طرح ہیں- ان میں خوشی، غمی، دکھ، کامیابی، ناکامی جیسے جذبات ایک ہی طرح محسوس کئے جاتے ہیں- انکے بھی عقائد ہیں- یہ بھی تہوار مناتے ہیں-  ان کے بھی خاص رسم و رواج ہیں- 

٩) قصّے کہانیوں اور سچّے واقعات میں بچوں کو اخلاقیات کا درس بھی خود بخود ملتا جاتا ہے-  اور اچھی بری خصوصیات والے کرداروں کی صفات انہیں انگریزی میں سمجھ آنے لگتی ہیں-  ان میں تعریفی اور تنقیدی انداز بیان کا فرق واضح ہوتا ہے- 

١٠) سب سے بڑا فائدہ اس طریقہ میں یہ ہے کہ بچے خوشی خوشی کتابیں پڑھتے ہیں- بغیر کسی ڈانٹ ڈپٹ، لیکچر اور نصیحتوں کے- 

اس عمر کے بچوں کی تحریری صلاحیتوں کے معاملے میں بھی بہت زیادہ بوجھ ڈالنے سے احتیاط برتنی چاہئے-  زیادہ سے زیادہ یہ کریں کہ انہیں کوئی پیراگراف نقل کرنے کے لئے دے دیں جس سے انکی آئی ہینڈ کوآرڈینیشن بہتر ہوتی ہے-  اسپیلنگ ٹیسٹ لے لیں-  جملے لکھوا لیں- ڈکٹیشن لے لیں- اور اس سے زیادہ کرنا ہو تو تھوڑے بہت آسان ترین سوال جواب اور کسی ایک چیز کے بارے میں تین چار جملے لکھوا لیں-  سب انگریزی میں- اس سے زیادہ کی صلاحیت بچے میں خود نظر آۓ گی اور وہ اسکا اظہار بھی کرے گا-  البتّہ جن باتوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے وہ یہ ہیں کہ کاپی پر مارجن ضروری ہو-  تاریخ لکھے-  لائن پر لکھے- فل اسٹاپ اور دیگر قوائد کا خیال رکھے- وغیرہ وغیرہ 

اسی طرح پہلی اور دوسری کلاس تک امتحانات سے گریز کرنا چاہئے-  اتنے چھوٹے بچوں کو امتحانات کے چکّروں میں ڈال کر کیا حاصل ہوتا ہے-  سواۓ اس کے کہ وہ تعلیم سے بیزار ہو جاتے ہیں-  فیل ہونے کا خوف ان پر سوار رہتا ہے-  فرسٹ آجائیں تو پھر تو ہر سال یہی پوزیشن چاہئے امّاں ابّا کو-  کم سے کم مضامین ہوں- اور کم وقت میں پڑھاۓ جائیں-  ہوم ورک آسان ہو اور کم ہو-  

ماہر تعلیم اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ تمام افراد کی ترجیحات مغربی نصاب سے متاثر ہو کر فانکس، گرامر اور دوسرے مروجہ طریقوں کا نفاذ نہیں بلکہ ایسا طریقہ تعلیم وضع کرنا ہونا چاہئے جس سے یہ زبان با آسانی سمجھ اسکے- اور بچوں کے معصوم ذہنوں پر بوجھ کم سے کم ہو-  

اساتذہ کی پیشہ وارانہ مہارت یا پروفیشنلزم

استاد کسے کہتے ہیں؟  

کیا ایک ایسا شخص جو طالبعلموں کو یہ کہے کہ کل گھر سے خود پڑھ کر آجانا- تو جو طالبعلم خود گھروں سے اور ٹیوشن سے پڑھ کر آئیں اور پاس بھی جو جائیں تو انہیں وہ ذہین طالبعلم کہہ کر تعلیم کا سہرا اپنے سر سجا لے اور اچھا ٹیچر کہلاۓ- اور جن طالبعلموں کے گھروں پر کوئی انکی مدد کرنے والا نہیں اور وہ ٹیوشن بھی افورڈ نہیں کر سکتے انہیں سزا ملے- اس بات کی کہ انکے والدین کیوں تعلیم یافتہ نہیں یا اتنے امیر کیوں نہیں کہ کوئی ٹیوٹر رکھوادیں- 

کیا ایک استاد یا استانی کی پیشہ وارانہ صلاحیتیں صرف ایک بی ایڈ اور ایم ایڈ کی ڈگری کی حد تک ہوتی ہیں؟  اسکے علاوہ اس میں کوئی اور خصوصیات نہیں ہونی چاہئیں؟ کیا ہمارے ہاں استادوں کو بتایا جاتا ہے کہ ڈگری کے علاوہ ان میں کون کون سی اسکلز ہونی چاہئیں؟

جس استاد یا استانی کو یہ احساس جو جاۓ کہ وہ پہلے انسان ہے بعد میں استاد یا استانی-  تو سب سے پہلے اسے اپنی شخصیت پر توجہ دینی چاہئے-  ایک استاد بےایمان، خائن،  لالچی، کام چور اور خودغرض نہیں ہو سکتا-  اگر اسے احساس ہے کہ اس کا کام بچوں کو "صفائی نصف ایمان ہے" کی تلقین کرنا ہے تو وہ جگہ جگہ پان اور گٹکا تھوکتا اور کوڑا پھیلاتا نہیں پھرے گا-  چھینکتے اور کھانستے وقت اسکے ہاتھ میں ٹشو تو ہوگا جسے وہ منہ اور ناک پر بھی رکھے گا-  ہواؤں میں چینکتا اور کھانستا نہیں پھرے گا-  ایسے چلے گا کہ جوتوں سے آواز نہ نکلے-  منہ بند کر کے کھانا کھاۓ گا-  کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ بھی دھو لے گا-  جہاں سے اٹھے وہاں چیزیں بہتر ہوچکی ہوں-  اسکی شخصیت سے لے کر جہاں جہاں وہ جاۓ گا ایک ترتیب، تہذیب اور نظم و ضبط نظر آۓ گا-  وقت کا پابند ہوگا-  اس کے طالبعلم اسے دیکھ کر گھڑی اور وقت کی اہمیت کا اندازہ لگا لیں گے-  ایک آدمی یا عورت جو اپنے طالبعلموں کے لئے انکی پسندیدہ شخصیت ہو- 

استاد کا تعلق علم سے ہوتا ہے تو ایسا لگے بھی تو کہ وہ ایک علم دوست شخص ہے- جس کی باتوں سے کتابوں کی خوشبو آتی ہے-  اور طالبعلموں کو یہ محسوس ہو کہ طالبعلم ہونا اتنی بڑی سعادت ہے کہ انکا استاد ابھی تک خود کو طالبعلم ہی تصوّر کرتا ہے اور علم کی کھوج میں لگا رہتا ہے-  جو طالبعلموں کو فخر سے سال میں دو کتابوں کے نام تو بتا سکے جو اس نے شوق سے پڑھی ہوں- اسے یہ فکر ہونی چاہئے کہ میرے طالبعلموں نے مجھے کتنی مرتبہ لائبریری میں دیکھا اور کتنی مرتبہ میرے ہاتھ میں کوئی کتاب دیکھی-  اور یہ کورس کی کتابیں نہیں ہونی چاہئیں-  بلکہ کورس کی کتابیں ہونی ہی نہیں چاہئیں-  

استاد کا تعلق طالبعلموں سے ہوتا ہے لہٰذا اسے علم کے ساتھ ساتھ علم کی طلب کرنے والوں کا دوست بھی ہونا چاہئے-  نہ کہ انہیں خوف دلانے والا ایک ظالم شخص-  طالبعلموں کو یہ محسوس ہو کہ انکا استاد امید کی وہ کرن ہے جس کے پاس انہیں بہت سے مسلوں کا حل اور کامیاب زندگی کا راستہ مل جاۓ گا- استاد کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس کے طالبعلموں میں سے کون بڑے ہو کر کیا بنے گا-  لہٰذا اسے تو زندگی کے مشاہدات اور تجربات اور زندگی کی مجموعی مہارتوں کا منبع ہونا چاہئے-    

رسول الله صلی الله علیہ وسلّم نے فرمایا 
اعمال کا دارو مدار نیّتوں پر ہے-  

نیّت اچھی ہو تو کام آسان ہو جاتے ہیں-  اساتذہ کو اپنا احتساب خود کرنا چاہئے کہ وہ اسکول میں کتنا وقت کیسے گزارتے ہیں-  کیا وہ وقت پر آتے جاتے ہیں یا صرف آنے جانے کی ہی فکر ہوتی ہے-  کلاس کے تیس پینتیس منٹ کے وقت میں وہ یہ سوچتے ہیں کہ کیا پڑھانا اور لکھانا ہے یا وقت ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں-  ان پر کسی انچارج اور پرنسپل کی نہیں بلکہ خود انکے اپنے ضمیر کی نظرہونی چاہئے-  پڑھانا پیشہ نہیں مشن ہونا چاہئے-  اور مشن میں سلیبس اور کرکیولم نہیں بلکہ اخلاص نیّت، محنت اور مسلسل مہارت حاصل کرنے کی تگ و دو کام آتی ہے-  اور اس تمام محنت کی جزا کی امید والدین یا اسکول انتظامیہ سے نہیں بلکہ الله سبحانہ و تعالیٰ سے رکھنی چاہئے-  

بنیادی تعلیم کاروبار نہیں ہے- جس کا مقصد تعلیمی مرحلے کے پہلے دس سال-  لہٰذا کم از کم بنیادی تعلیم کے شعبے سے متعلق اساتذہ کو اسے عبادت اور ذمّہ داری کی نظر سے ہی دیکھنا چاہئے-  ٹیوشن اور کوچنگ کا کاروبار چلانے کے لئے اسکولز اور کالجز کے تدریسی عمل میں خرابیاں پیدا کرنا-  سراسر بدعنوانی ہے-  پڑھانے اور سمجھانے کے بجاۓ انہیں تیّار کردہ نوٹس بیچنا-  سراسر بے ایمانی ہے-  

لیکن اساتذہ بھی کیا کریں-  وہ بھی اسی گلے سڑے معاشرتی نظام کی پیداوار ہیں-  کسی اور کی تعلیم و تربیت کی فکرکیا کریں گے-  سب نہیں لیکن اساتذہ کی اکثریت پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے محروم ہی نہیں بلکہ صلاحیتوں کے احساس محرومی سے محروم اوراحساس جرم سے بھی محروم ہے-  اساتذہ کی تربیتی ادارے، حکومت، تعلیمی بورڈز بھی اس سلسلے میں بے بس اور لاچار ہیں-  اور یہ سب ایک کاروباری سلسلے کے سوا کچھ نہیں-  

کوئی تعلیمی چینل بھی تو نہیں جو اساتذہ کو پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی تربیت دے سکے-  اور انہیں انکے انسان ہونے کا احساس دلاسکے-