Wednesday, 8 January 2014

Urdu writing for beginners - اردو لکھائی درجہ اول

اردو لکھائی درجہ اول
بچہ جب پہلی جماعت میں آتا ہے تو حروف تہجی اور بہت سے مرکبات اور جملوں کو نہ صرف پڑھ سکتا ہے بلکہ تھوڑی سی کوشش سے لکھ بھی سکتا ہے-  پہلی جماعت میں لکھائی صرف اور صرف مرکبات اور جملوں تک ہی محدود ہونی چاہیے کیونکہ یہیں سے بچہ جملوں میں ربط سیکھتا ہے- مرکبات بنانے کے لئے حروف عطف استعمال ہوتے ہیں- مکمل حروف سے الفاظ بنانے کے سب سے پہلے سبق کے دوران جو سب سے پہلا حرف عطف بچہ سیکھتا ہے وہ ہے " اور "... جو بچہ حروف کی مکمل اشکال لکھ سکتا ہے وہ با آسانی 'اور' کے ساتھ مرکبات بھی بنا سکتا ہے اور اسکے بغیر بھی-  مثال کے طور پر 

آم  اور  آڑو
ڈوری اور ڈول
درد اور دوا
آواز اور اذان
درزی اور درزن
دادی اور دادا
ادرک اور اروی
دن رات
واہ  رے واہ
آدم ڈرا
ارم ڈری
آب زم زم

اس کے بعد کے اسباق میں بچہ با لترتیب  ' یا  جو  کو  کی  کے  سے نے ' کے حروف سیکھتا ہے جس سے کہ مزید مرکبات اور جملے بناۓ جا سکتے ہیں- اگر اس درجہ کا ہدف تقریبا سو جملے اور مرکبات رکھ دیا جاۓ تو اسے پورا کرنا کوئی مشکل نہیں- ابتدائی یعنی پہلی جماعت سے قبل تو حروف تہجی اور مندرجہ بالا اور مندرجہ ذیل الفاظ اور مرکبات کا املا لینا ہی کافی ہے

بابا کا تالا
آپا آٹا لانا
نانا باجا لانا
لالا جاگا

گاڑی کی چابی
راوی کا پانی
بی بی کی باری
رانی کی بالی
باجی کا مالی

آٹے والے
فاقے کے مارے
چا چا سے آگے
آتے جاتے
دادا جاگے

آنی آتی ہے
آپی جاتی ہے
آپا آتا لاتی ہے

فوجی کی ٹوپی
نانا کا لوٹا
نانی کی طوطی
آتے کی پوری
پوری کا آٹا
طوطی کا رونا
 بابا کے جوتے
 روٹی کا چورا
آپی روبی سے بولی
پانی ڈالو
روٹی توڑو
چوہا دوڑا
چوہے کو مارو

باجی کو آٹا دے دو
دادی سے سو روپے لے لو
باجی سے بولو
زارا کو پوری روٹی دو
نانی کا طوطا بولے

آزادی کی راہ
دل کی آواز
دل کا درد
رات کی رانی
دودھ کا دودھ پانی کا پانی

ان پچاس آسان مرکبات اور جملوں کے بعد 'جزم یا سکون' والے الفاظ سے مرکبات اور جملے لکھنے کو دیے جا سکتے ہیں- یہ پڑھنے میں بھی آسان ہیں اور لکھنے میں بھی-   جیسے کہ 

دال چاول
حال چال
تار تار
خاردار
شاد باد
گول مول
تانا بانا
تانے بانے
آپ کا نام
شام کا تارا
کان کے درد کی دوا
کام کی بات
آج کے دام
فوج کی شان
دانا کا قول
سونے کی کان
جوش اور ہوش
ناک اور کان
سات سال کا راج
کاری وار
سو کا نوٹ
ماش کی دال
آم کا باغ
خاص لوگ
موج ہی موج
اونی کوٹ
چاول کے دانے
بارش کے دن
عورت کی چادر
اردو کے وارث
دوزخ سے ڈرنا
دریا کا پانی
آوے کا آوا
سوج کے بولو
بات کو تولو
رب کی بات مانو
نور کا فون آیا
چاچی کا سوٹ کالا ہے
مولی کاٹ دو
طوطی کو آم دو
جو بویا سو پایا
دن ہو یا رات

گاۓ کے پاۓ
بابا کی راۓ
خوف کے ساۓ
رانی آئی  چاۓ لائی
نادر جاؤ  آم  لاؤ
ماما آۓ  گاۓ لاۓ

ابتدائی جماعتوں میں بچے کے لئے بات چیت کے ذریعے جملوں کی بناوٹ اور ان میں ربط قواعد سے زیادہ اہم ہوتا ہے- اگر بچہ کو اسباق بالترتیب سکھاۓ گۓ ہوں اور اسے گرامر، مشکل مشقوں اور مقابلہ بازی میں نہ الجھایا گیا ہو تو بچہ بہت جلد بات میں اور خیالات میں ربط پیدا کرنا سیکھ جاتا ہے- اور سال کے اختتام تک مندرجہ ذیل سوالیہ جملے اور چار پانچ سطروں کی کہانی آسانی سے پڑھ اور لکھ سکتا ہے- بس کوشش ہونی چاہیے کہ الفاظ سکھاۓ گۓ اسباق کے مطابق ہوں



 آپ کون ہیں؟

آپ کا کیا نام ہے؟
آپ کے والد کا کیا نام ہے؟
آپ کے بھائی کا کیا نام ہے؟
آپ کیا کام کرتے ہیں؟
آپ کے والد کیا کام کرتے ہیں؟
کیا آپ باغ میں جاتے ہیں؟
آپ کے ہاتھ میں کیا ہے؟
یہ آپ کے ساتھ کون ہے؟
یہ کون سا پھول ہے؟
یہ کس کی گڑیا ہے؟
یہ ہاتھی ہے یا گھوڑا؟


فاروق اور قاسم بھائی ہیں- فاروق قاسم سے چھوٹا ہے- فاروق اور قاسم دادا جان کے ساتھہ روز شام کو باغ میں جاتے ہیں



یہ لڑکا آٹھ  سال کا ہے- اس کا نام ہارون ہے- ہارون کا چھوٹا بھائی چھ سال کا ہے- اس کا نام ہاشم ہے-  ہارون آم بہت شوق سے کھاتا ہے جب کہ ہاشم کو آڑو پسند ہیں-  ہارون اور ہاشم کے والد جوتوں کا کاروبار کرتے ہیں


برسات کا موسم تھا- گرمی کے دن تھے- بادل ہی بادل تھے- بارش ہو رہی تھی- سب خوش تھے

یہ بابا کا گاؤں ہے- اس گاؤں کا نام نورپور ہے- یہ بابا کی گاۓ ہے-  اس کا نام بانو ہے- بانو چارا کھاتی ہے

یہ فریال کی گڑیا ہے-  فریال کی گڑیا نام زارا ہے-  فریال کی گڑیا کے بال کالے ہیں-  فریال کھانا بھی زارا کے ساتھہ کھاتی ہے اور رات کو اس کے ساتھہ ہی سوتی ہے


آج باغ میں کون آیا تھا؟  اس شاخ پر نو پھول تھے- اب آٹھہ ہیں- شاخ سے پھول کس نے تورا؟ عادل اور ماجد سے پوچھو 

عادل کیا تم نے شاخ سے پھول توڑا؟ 
ماجد کیا تم نے شاخ سے پھول توڑا؟ 
عادل اور ماجد بولے- پھول ہم نے نہیں توڑا 
پھول اس لڑکی توڑا ہے- اس کا نام تارا ہے 

Friday, 3 January 2014

Urdu for Level 1 - اردو درجہ اول کے لئے

اردو درجہ اول کے لئے 

پہلی جماعت کا بچہ چھ سے سات سال کا ہوتا ہے- اس عمر کے بچے کو نہ تو قواعد سمجھنے کی ضرورت ہے نہ ہی اردو اصطلا حات تعریفیں کی رٹوانے کی- اور نہ ہی یہ اس عمر کا تقاضہ ہوتا ہے- پہلی جماعت کے بچے کو اردو تعلیم کے نام پر کورس کی کتاب ہاتھ میں تھما دینا کہ وہ اسے پڑھ کر دکھاۓ اور اس میں دی گئی مشقیں حل کرے یہ ظلم ہے- اس عمر میں بچے کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ اور اس کی سننے اور سوچنے کی صلاحیتوں کو اور تلفظ بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے- جو الفاظ وہ پچھلی کلاس میں سیکھ چکا ہے اسی سلسلہ کو جاری رکھتے ہوۓ مزید الفاظ اور جملے بنانے کو صلاحیت پیدا کرنی چاہیے- اور واحد جمع، مذکر مؤنث، الفاظ کی ضد ، الفاظ معنی وغیرہ قسم کی مشقوں سے گریز کرنا چاہیے
ان الفاظ میں اسم، فعل، صفت وغیرہ سب ہی ہوسکتے ہیں- بچے کو ان کی گروہ بندی سکھانے کی ضرورت نہیں

بچے فطری طور پر بہت اچھے سامع ہوتے ہیں اسی لئے آس پاس کے ماحول سے الفاظ، تلفظ اور لہجہ اخذ کر لیتے ہیں-  لہذا کوشش کرنی چاہیے کہ بچے کو سیکھنے کے ابتدائی مراحل میں زیادہ سے زیادہ کہانیاں، قصے، اقتباسات اور نظمیں سنائیں جائیں- اس سے نہ صرف بچے کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں بڑھتی ہیں بلکہ پڑھنے اور لکھنے کے عمل میں بھی تیزی آتی ہے

اسی طرح بچے کو پہلی دوسری جماعت میں پانچ دس لائنوں کا مضمون لکھنے دے دیا جاتا ہے یہ بھی ظلم ہے-  ایک بچہ جس نے ا بھی مضمون پڑھنے نہیں سیکھے، اسکو بات کرنے پر کوئی عبور نہیں، اسکے خیالات میں کوئی ربط نہیں اور نہ ہی اسکا ماحول اہل زبان کا ہے- ایسے بچے کو مضمون رٹوانا حماقت ہے-  مضمون نگاری کے لئے سب سے زیادہ مشاہدہ کی ضرورت ہوتی ہے-  لہذا ضروری ہے کہ کم از کم تیسری جماعت تک بچے کے پڑھنے اور بولنے کی صلاحیت پر توجہ دی جاۓ- الفاظ سکھاتے وقت بچے کو یہ ضرور بتائیں کہ لفظ کن حروف سے ملکر بنا ہے- مثال کے طور پر 'مرغی'  م ر غ ی  'مرغی'، وغیرہ 

پہلی جماعت کے سال کو احتیاطا ١٠٠ دنوں کا سمجھ کرپانچ حصوں میں تقسیم کر دیں تو ایک حصہ بیس دنوں کا بنتا ہے- بیس دنوں میں ایک چھ سے سات سال کا بچہ بغیر کسی ذہنی دباؤ کے کس حد تک اردو سیکھ سکتا ہے

سال کے پہلے حصے میں آدھی اور مکمل اشکال کے حروف کو ملا کر لکھے جانے والے دو حرفی الفاظ اور ان سے بننے والے مرکب اور جملے سکھاۓ جائیں- الفاظ سیکھنے کے دوران بچہ خود ہی جملوں میں ان کا استعمال شروع کرنے لگتا ہے- ان الفاظ پر زبر، زیر اور پیش کی آوازیں سکھانا ضروری ہے کیونکہ کچھ لفظ تینوں حرکات کے ساتھ بولے جاتے ہیں- جیسے کہ  جَل جِل  جُل  سَن  سِن  سُن  وغیرہ

بت   تب  پٹ  جب  چب  سب  شب   کب  لب
بد  جد   حد   سد   صد   ضد   قد  لد  مد  ند
بر  پر تر ٹر  جر  خر  سر  شر  فر  قر
  کر  گر  مر  نر  ہر بڑ  جڑ  سڑ  گڑ  لڑ  مڑ
بن  پن  تن  جن  چن  سن  شن  کن  گن  من
ہم  تم  جم  خم  کم  گم  لم  نم
بک   تک   شک   نک   نگ
بج    حج   سج   کج   لج   نج  بچ   سچ
بل  پل  تل  ٹل   جل  چل  حل
شل   غل   کل   گل   مل   نل

برتن    کرتب    روشن   گردن    موسم    درجن
   عالم   سالن   سالم    سرپٹ     گوبر   گوہر  سرحد
کاجل   کامل   جاہل   باطل   قاتل   ساحل  کابل   قابل   کاہل 
 بارش   خالد   شاہد   والد   پاگل   باہر   جامن   دامن
گڑیا   ندیا   برسا   ترسا   گرجا   دریا   کڑوا
برہم   مرہم   گڑبڑ  بوتل   کومل   برتر    ازبر
       لڑکا   لڑکی  مرغا   مرغی   ہد ہد     چڑیا  دولت

برسات کا موسم-  دریا کا پانی- آلو کا سالن
لڑکے کی گردن-  صاف برتن -  گاۓ کا گوبر
شاہد کا مرغا-  زارا کی مرغی - بانو کی چڑیا

بادل   زور   سے  گرجے-  تڑ  تڑ  اولے برسے
سالن میں اور پانی ڈالو-  شاہد سے جامن لے لو
ساحل پر مت جاؤ-  خالد کے والد باہر آۓ
گڑیا  کے پاس  گوہر ہے-  گھوڑا  سرپٹ دوڑا
سورج  روشن ہے-  گردن کو موڑو

سال کا دوسرا حصہ بھی بیس دن کا ہے - اس میں 'ھ ' کے الفاظ کی مشق کرائی جا سکتی ہے  جیسے کہ
آدھ   بوجھ   پوچھ   کھوج  کھول   جھول  بھاگ  جھاڑ   دھو  ڈھو
جھوٹ  جھوم  جھاگ  چھاپ  دھاک   راکھ   ساکھ   دھوم
دھرنا  بھرنا   پھرنا   جھرنا   جھڑنا
چھوٹا  چھوٹی  چھوٹے    جھولا   جھولی   جھولے
جھوٹا  جھوٹی   جھوٹے    کھولا  کھولی  کھولے
دھویا  دھوئی  دھوۓ       ڈھایا  ڈھائی  ڈھاۓ
چھایا  چھائی  چھاۓ        بھایا  بھائی  بھاۓ
آدھا  آدھی  آدھے            بھاگا  بھاگی  بھاگے
پوچھا  پوچھی  پوچھے    جھاڑا  جھاڑی  جھاڑے

کھڑکی کھول دو-  جھولا جھولو -  پانی بھردو

آدھی گوبھی کاٹ  لو-  گھٹا جھوم جھوم برسی
چھ آم دھو لو-  بھائی باہر پھرتا ہے
گھاس پر کھاد ڈالو-  پھول مت توڑو
تھالی کو چاول سے بھردو-  نانی سے پوچھو
چھوٹی سی چڑیا کھڑکی پر آئی
مرغی کے ساتھ  چھوٹے چھوٹے چوزے بھی باہر آۓ

سال کے تیسرے حصے میں مزید الفاظ اور جملے سکھاۓ جا سکتے ہیں-  توجہ صرف اور بچے کے الفاظ بنانے، پڑھنے اور لکھنے تک ہی مرکوز رہنی چاہیے


آسام   آلام   بادام    ناکام    کالام    ناراض   بارات   تالاب  بازار چالاک

  شاباش   آغاز   باغات  آسان   کاغان     دالان    نادان    ناران
سامان   تاوان   فاران    ہامان   بولان   مردان   فرمان  دربان
  فرحان   نادار   قارون   ہارون    کاکول   تربوز  خرگوش
مرکوز   مرغوب   ارباب   مربوط    امرود    مایوس    فانوس
   برباد   فریاد   داماد   گھر بار    لوہار   سرکار   درکار   دربار
اذکار   خاردار   یادگار    آرپار   کارزار

گھربار چھوڑ کر آ ۓ -  بابا بادام لاۓ -  دادا کالام سے آۓ

فرحان کل سے ناراض ہے-  یہ امرود کا باغ کس کا ہے؟
لڑکے نے تربوز کھایا-  نادار لوہار نے فریاد کی
مایوس نہ ہو-  ناراض نہ ہو-  ہارون کو شاباش دو
یہ کس کا فرمان ہے؟  یہ کس کا سامان ہے؟
یہ کس کی یادگار ہے؟

درجہ اول سال کے چوتھے حصہ میں بچے کو بے قاعدہ الفاظ کی مشق بھی کرادیں تو اسکے پڑھنے میں آسانی بھی پیدا ہو جاتی ہے اور روانی بھی آجاتی ہے- جیسے کہ 

یہ  وہ  نہ  پہ  کہ  ہے  ہیں نہیں کیا  گیا لیا  دیا
گئی  کئی  کیے لئے لیے  بہت  میں

آپ کا نام کیا ہے؟

آپ کے والد کا نام کیا ہے؟

آپ کے بھائی کے نام کیا ہے؟
یہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے؟
آپ کس کے ساتھ آۓ ہیں؟
آپ کیا کام کرتے ہیں؟

آپ کے والد کیا کام کرتے ہیں؟
آج بہت گرمی ہے
کل بہت سردی تھی
  کاغان میں بہت باغات ہیں
تالاب میں بہت پانی ہے
یہ پھل تو بہت کڑوے ہیں
اس میں کیا خاص بات ہے؟
کیا تم نے کام کر لیا؟
دریا کے پار خاردار جھاڑیاں ہیں
اب کس کی شامت آئی؟
جھوٹ ہرگز نہ بولو سچ بولو
 پھول توڑ کر باغ کو برباد نہ کرو
فوزان نے ساری چھت پانی سے دھوئی
  چھوٹے بھائی کو دودھ دے دو
آرام سے بات کرو شور نہ کرو
نرمی سے بات کرو
 دودھ برتن میں ڈال دو
باجی نے گاجر، مولی، آلو  اور پالک لئے
اذلان سو گیا ہے
اس کے باغ میں آم، امرود اور آڑو ہیں
مالی نے گھاس کاٹ دی
میں بھی چاۓ پی لی ہے
والد کا فرمان نہ ٹالو
دروازے کو کھولو
 تالے کو چابی سے کھولو
گھر کو صاف کرو
باہر نہ جاؤ
 چڑیا اڑ گئی
کل شام چھت پر بہت سے طوطے آۓ

ہارون اور گڑیا گاۓ کے پاس تھے
یہ بارہ چوزے ہیں
کیا دادی نے رات کا کھانا کھا لیا؟
کیا چاچا آ گۓ؟
آج کس کی شادی ہے؟
یہ کس کی بارات ہے؟
یہ لوگ کون ہیں؟
کیا سب شادی میں جا رہے ہیں؟

ہم کوتو بازار جانا ہے
 کیا تم بھی بازار جاؤ گے؟
گھر میں سارے جالے صاف کرو
رونا دھونا نہ کرو
تم کو کس نے مارا؟
میں نے جھوٹ نہیں بولا
اس نے گھر کا دروازہ کھولا
کیا دال چاول پک گۓ؟

اب تم کوئی کام نہ کرو- بس آرام کرو
خرگوش کے کان بڑے ہیں-  ہاتھی کے کان اس سے بھی بڑے ہوتے ہیں

سال کے اس آخری حصے میں تشدید اور نوں غنہ کے الفاظ سکھاۓ جائیں- جیسے کہ 


امّى  ابّو  ابّا  بلّى   امّاں  جنّت  ہمّت

ماں  کہاں  یہاں  وہاں   جہاں   سماں   رواں   تاروں   کاروں
  چاند   ماند   مانگ   گیند   نیند   رنگ    سنگ    دنگ  پسند

چاند پر نہ ہوا ہے اور نہ پانی

تاروں کے جھرمٹ میں چاند خوب صورت لگ رہا ہے
امّى  اور ابّو کہاں ہیں؟
امّى  اور ابّو کی بات نہ مانی تو الله بہت ناراض ہوگا
امّى  اور ابّو کی خدمت کر کے جنّت پاؤ
کالی بلّى دو چوزے بھی کھا گئی اور دودھ بھی پی گئی
 مایوس نہ ہو اور ہمّت سے کام لو
کیا تم کو نیند نہیں آ رہی؟
یہ کس کی گیند ہے؟
یہاں آؤ - وہاں نہ جاؤ
یہ کس کے جوتے ہیں؟
کاروں کے رنگ ماند پڑ گۓ


یہ لڑکا آٹھ  سال کا ہے- اس کا نام ہارون ہے- ہارون کا چھوٹا بھائی چھ سال کا ہے اور اس کا نام ہاشم ہے-  ہارون آم بہت شوق سے کھاتا ہے جب کہ ہاشم کو آڑو پسند ہیں-  ہارون اور ہاشم کے والد جوتوں کا کاروبار کرتے ہیں


اگر ان مشقوں کے ساتھ کہانیوں اور نظموں کا سلسلہ با قاعدگی سے جاری رکھا جاۓ تو بچہ خود بخود پڑھنے لکھنے میں دلچسپی لیتا اور اسکی ذہنی اور علمی نشو نما پر اچھا اثر پڑتا ہے-  ان سو دنوں کے علاوہ جو وقت ملے اس میں بچے لکھائی پر توجہ دی جاۓ  اور روز نۓ اور مشکل الفاظ سکھانے کے بجاۓ ان ہی سو دو سو الفاظ کی مختلف طریقوں سے مشق کرائی جاۓ تاکہ یہ ذہن میں پختہ ہو جائیں 

اس درجہ کے اختتام تک بچے کو پندرہ سو سے زیادہ الفاظ کی پہچان ہو چکی ہوتی ہے-  اگلے درجے کے لئے ان الفاظ کا انتخاب کیا جاۓ جو سات سے آٹھ سال کے بچے کے لئے مناسب ہو







Tuesday, 24 December 2013

Step-by-Step Urdu Learning (200 days) اردو نصاب کی ابتدائی ترتیب

.
 اردو نصاب کی ابتدائی ترتیب
ابتدائی اردو نصاب کا مقصد خواندگی کی شرح کو بڑھانا ہونا چاہیے-  اور نصاب ترتیب دیتے وقت سیکھنے کے قدرتی عمل کو ذہن میں رکھنا چاہیے- بچے کا ذہن ہر روز اپنے ماحول، غذا اور صحت کے مطابق پرورش پاتا ہے-  اس پر وقت سے پہلے بوجھ ڈال کر اسے آزمانا اور اسکے نتیجے کے مطابق بچے کے ذہین یا کند ذہن ہونے کا فیصلہ کرنا صرف حماقت ہی نہیں بلکہ ظلم ہے

اردو زبان کو سہل  طریقے سے اور بتدریج سیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ
 اسباق مرحلہ وار سکھاۓ جائیں - بچوں کو قواعد میں الجھانے کے بجاۓ صرف اور صرف انکے ذخیرہ الفاظ بڑھانے، صحیح تلفظ ادا کرنے اور زبانی جملے بنانے پر توجہ دی جاۓ - لکھائی میں توجہ درست خطوط نگاری اور توڑ جوڑ تک مرکوز رکھی جاۓ - بچے جب ان مراحل سے سلسلہ وار گزرتے ہیں تو ان میں مشکل الفاظ کو پڑھنے اور سمجھنے اور انکے قوائد میں استعمال کی صلاحیت خود بخود تیز ہو جاتی ہے- لہذا ان مراحل کے دوران کسی بھی قسم کے امتحانات سے گریز کیا جاۓ- سکھانے کے عمل کو پندرہ، بیس یا پچیس منٹ سے زیادہ لمبا نہیں کرنا چاہیے اور ایک وقت میں دس سے پندرہ الفاظ ہی سکھانے چاہئیں تاکہ وہی ذہن میں پختہ ہو جائیں-  چند الفاظ سکھا کر اور انکو قوائد میں الجھا کر بچے کی ذہنی صلاحیتیں ختم کرنے اور اردو زبان سے دلچسپی ختم کرنے سے بہتر نہیں کہ بچہ ان طریقوں سے زیادہ سے زیادہ الفاظ سیکھے تاکہ اس میں خود اعتمادی پیدا ہو اور آگے پڑھنے کا شوق بھی-  اس نصاب کے ذریعے بچا ٢٠٠ دنوں میں ایک ہزار سے زیادہ الفاظ سیکھ بھی سکتا ہے اور انکو جملوں میں بھی استعمال کر سکتا ہے
١- حروف تہجی کی پہچان 
٢- حروف تہجی کے حروف کی آدھی اشکال کی پہچان 
٣- حروف کی آدھی شکل کو الف سے ملانا
٤- حروف کی آدھی شکل کو واؤ سے ملانا 
٥- حروف کی آدھی شکل کو 'ی '  سے ملانا 
٦- حروف کی آدھی شکل کو 'ے' سے ملانا 

 ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل م ن ہ ھ ی
وہ حروف ہیں جنکی آدھی شکل کو الف، واؤ ، ی  اور ے سے ملا کر لکھا جا تا- ہے اور الف، واؤ، ی اور ے حرف کے بعد آتے ہیں

با پا تا ٹا ثا جا چا حا خا سا شا صا ضا
عا غا فا قا کا گا لا ما نا ہا ھا یا

بو پو تو ٹو ثو جو چو حو خو سو شو صو ضو
عو غو فو قو کو لو مو نو ہو ھو یو

بی پی تی ٹی ثی جی چی حی خی سی شی صی ضی
عی غی فی قی کی لی می نی ہی ھی

بے پے تے ٹے ثے جے چے حے خے سے شے صے ضے
عے غے کے لے گے لے مے نے ہے ھے

 د  ڈ  ذ  ر  ڑ  ز  ژ  و - وہ حروف ہیں
جنکو الف، واو، ی، ے کے ساتھ ملا کر نہیں لکھا جا سکتا
کیونکہ انکی آدھی شکل نہیں ہوتی لہذا انہیں الگ الگ لکھا جاتا ہے 


دا   ڈا   ذا   را   ڑا   زا   ژا   وا 

دو  ڈو  ذو  رو  ڑو  زو  ژو 

دی   ڈی   ذی   ری   ڑی   زی   ژی 

دے   ڈے   ذے   رے   ڑے   زے  ژے 

اس مرحلہ پر آگے بڑھنے سے پہلے حروف کے ان مرکبات سے الفاظ بنانے کی مشق کی جاتے تاکہ چھوٹے چھوٹے الفاظ کی ہجے، بناوٹ، تلفظ اور حروف کی ترتیب ذہن میں بیٹھ جائیں- ان چھوٹے چھوٹے الفاظ میں سے کچھ کے زبانی چھوٹے چھوٹے جملے بنا کر ان کا گفتگو میں استعمال سمجھایا جا سکتا ہے- اگر بچے کو ان الفاظ کے معنی سمجھ نہ بھی آئیں تو کوئی بات نہیں، کم از کم بچے اردو پڑھنے سے گھبرائیں گے نہیں-  یہ عمل ' آ ' کے الفاظ سے شروع کرنا چاہیے اور ساتھ ساتھ ہجے بھی - ہجے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ حروف کی ترتیب اور حرکت سمجھ آجاتی ہے - اگر ابتدائی مراحل میں ہجے پر زور دیا جاتے تو بعد کے سالوں میں اس کی ضرورت نہیں پڑتی اور بچے خود مشکل سے مشکل الفاظ ادا کر سکتے ہیں- اس مرحلے پر ان کی ذہانت کی جانچ پڑتال کر کے انہیں خوفزدہ کرنے اور انکی سیکھنے کی صلاحیتوں کو ضایع کرنے کے بجاۓ انکے ذخیرہ الفاظ کو بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے-  اس مرحلے پر بچوں کو قوائد یا الفاظ کی قوائد کے لحاظ سے درجہ بندی بھی نہیں سکھانی چاہیے، جیسے کہ اسم، فعل، صفت وغیرہ - 
 مندرجہ ذیل دو سو مرکبات صرف مرکبات نہیں بلکہ با معنی  الفاظ ہیں - جنھیں زبانی جملوں میں آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے- ان الفاظ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ آدھی اشکال کے بجاۓ حروف کی مکمل شکل سے مل کر بنے ہیں - لہذا انہیں پڑھنا ، ہجے کرنا اور لکھنا بہت آسان ہے- بچے کو صرف زبر، زیر اور پیش کی آواز کو سمجھانا ہوتا ہے- 


پچاس دو حرفی الفاظ

آب   آپ   آج   آڑ   آس  آگ   آل   آم   آن   آہ
اب  اٹ   اڑ  از   اس  اف  اگ  ان
دب  در  دس  دق  دل   دم  دن  دو  دی  دے
ڈٹ   ڈر  ڈس   ڈھ
رب   رت   رج   رچ   رخ   رد   رس   رک   رل   رن   رو   رہ
زچ   زد   زر  زک   زن
وہ

پچاس تین حرفی الفاظ
آدم   آرا  آری  آرے  آڑو   آڑے
 اوٹ   اور  اوس  اول   اون  اوہ
ادا  ادب   ارب   ارم   ازل  اڑا   اڑو  اڑی   اڑے
دار  داغ   دال  دام  دور  دوڑ
ڈال   ڈوب   ڈور  ڈاک   ڈول ذات   ذوق   ذرا
رات   راج   راز  راس   رال   ران   رزق   روز   روک  رو
 زاد   زار   زرد   زور   زوج
  واہ  وزن  ورق  ورم

پچاس چار حرفی الفاظ 
آداب   آرام   آرزو  آزار  آزاد   آواز
اداس   ادرک   اذان   اردو   اردن   اروی   اڑان   اوڑھ
دادو   داڑھ   دراز  درزن   درزی   درود   دروس
دروغ   دودھ   دوری   دوزخ   دوڑا   دوڑو   دوڑی   دوڑے
ڈورا   ڈوری   ڈورے
رازق    راول   راوی    رواج   روزہ   روزے   رواں
زردہ   زردی   زردے
وارو   وارا   واری   وارے    وارث   وارو  واری   ورزش


پانچ حرفی الفاظ
آزادی   آزاری   آزردہ
ادارت  ادارہ   ادارے   ادوار   ارادہ   ارادی   ارادے
 ارواح   اوراق  اوزان   اوزان
دادرس  درازی   دوران    روداد    روزوں   زوروں   وزارت   وزراء

چھ حرفی الفاظ
اداروں  ارادوں  ازدواج    درازوں  دروازہ
 دروازے   رازدار   رواروی    زادراہ   زرداری
 زورآور   زوردار   واردات

سات حرفی الفاظ
آہ وزاری    اردودان   اوزاروں   دل آزاری    دوردراز
رازداری    راہ داری    رواداری    روزہ دار   زورآوری

آٹھ حرفی الفاظ
رواں دواں   رازداروں   روزہ داری   زورآوروں

نو حرفی الفاظ
روزہ داروں

جب بچے یہ دو سو الفاظ یا ان میں سے آدھے بھی پڑھنے کے قابل ہوجائیں تو انہیں مرکبات جوڑ کر الفاظ بنانا سکھائیں ہجے کے ساتھ- جیسے کہ مندرجہ ذیل ایک سو دس الفاظ

آپا    آتا   آتا   آجا   آقا   آنا   آیا   بابا   چاچا   ماما   نانا

تارا   تایا   تالا   جاتا   جانا   جاگا   جایا   مارا   مالا   لاتا   لانا  لایا

چارا   دانا   سارا   کاٹا   کالا   باڑا   جاڑا

آبی  آپی  آتی   آنی   بانی  پانی  لانی  نانی   باری    جاری  ساری

راضی   ماضی   قاضی  چابی   باجی  گاڑی   خالی    بازی  بی بی

موڑو    جوڑو    بولو   تولو   لوگو   جاگو   ڈالو  بولا   ٹوٹا   طوطا

بولی   ٹوپی   بوٹی   روٹی    قومی   فوجی   ٹولی   جوڑی   ٹوٹی   طوطی

آتے   آٹے   آ لے   آگے   کالے   جاگے   مارے   سارے   فاقے    داغے   خاکے

بولے   تولے   ٹوٹے   طوطے   روتے   موٹے   سوتے     لوٹے

ہونا   ہونی   ہونے   ہوتا   ہوتی   ہوتے

ہوگا  ہوگی   راہی   ماہی   شاہی   چاہی

چوہا   آلو  جوتا   جوتے   سولی   کوڑا   کودی   نوری   پوری  چوسا

اس مرحلے پر بچہ تھوڑی سی کوشش  اور بڑوں  کی مدد سے ان الفاظ سے بنے جملے پڑھ سکتا ہے - مثال کے طور پر

-روٹی  آرام سے توڑو -  بابا سے ٹوپی لے لو -  نانی کا طوطا بولا

-نانا کو لوٹا دے دو - اب بی بی کی باری ہے - چاچا کی گاڑی  کالی ہے

-زارا  گاڑی  کی چابی لاتی ہے - ماما  کو پانی لا دو

- دادی کو روٹی دے دو -  تارا  روزہ دار ہے


اس مرحلے پر ہمزہ کا استعمال سکھایا جا سکتا ہے جس سے مزید جملے بنانے میں مدد ملے گی 

آؤ  آئی   آتے   لاؤ  لائی   لاۓ   جاؤ  جائی   جاۓ

پاؤ   پائی   پاۓ   گاۓ   ساۓ   ہاۓ   چاۓ   راۓ

داؤ   ناؤ   روئی   روۓ   سوئی   سوۓ   کوئی

بابا کی راۓ  لو -  دادا گاۓ کے پاۓ لاۓ

نانا اونی ٹوپی اور دو کالے موزے لاۓ

رانی دادی سے دس آڑو اور  نو آم  لائی - ماسی گاۓ کا چارا  لائی

یہاں تک پہنچتے پہنچتے بچہ نہ صرف پانچ سو سے زیادہ الفاظ سیکھ چکا ہوتا ہے بلکہ ان کا جملوں میں استعمال بھی کافی حد تک جان لیتا ہے- اور کیونکہ یہ الفاظ سادہ ہیں لہذا انہیں لکھنے میں بھی کوئی زیادہ دقت نہیں ہوتی - اب اس مرحلے پر بچے کو وہ الفاظ ہجے کے ساتھ سکھائیں جن کے آخر میں آواز رک جاتی ہے یعنی جزم آجاتا ہے-  مثال کے طور پر یہ پچاس الفاظ

کام  نام  شام  بات  سات  بال  جال سال  جاگ  ساگ

بان  شان  ماں  کان   ناک   موج  فوج  بول  گول  قول

موت  نوٹ   کوٹ   شور   مور  غور  خوف  سوچ   موچ

قوم  موم  ماش  خاص  باغ   ہوش   جوش  شاد  باد  یاد

ہار  خار  پار   چار  باب   باپ

خون  خوب   حور  ٹوٹ   کوٹ


بادل  بارش  خارش  چادر  چاول  عورت  صورت  ساون

    طارق  نازک تازہ  چودہ   چوزہ  موزہ  بارہ

 بچے کو اگر آسان اور عام گفتگو میں استعمال میں ہونے والے  بے قاعدہ الفاظ بھی سکھادیں تو بچہ مزید جملے پڑھنے اور سمجھنے کے قابل ہو سکتا ہے

یہ   وہ   میں  ہیں   کہ  لیا   کیا   گیا   لئے  گۓ  کیے

یہ بابا کی ٹوپی اور ان کی گاڑی کی چابی ہے

میں نے  خوب غور کیا اور سوچا -  یہ تم نے کیا کیا

ماما شام کو آۓ اور رات کو گۓ -  اب کیا کیا جاۓ

آپ نے سارا دن کیا کام کیے - اس کا نام کیا ہے

میں نے نانی سے سو روپے کا نوٹ لیا


ابتدائی نصاب کے اس آخری مرحلے میں بچے کو 'ھ ' کے الفاظ سکھاۓ جاسکتے ہیں -  یہ الفاظ کیونکہ پڑھنے اور لکھنے میں قدرے مشکل ہوتے ہیں اس لئے انہیں آرام سے اور  با لترتیب پڑھایا جاۓ تاکہ بچہ 'ھ ' کی آواز کو اچھی طرح سمجھ لے - 

بھ   پھ  تھ  ٹھ   جھ   چھ   دھ   ڈھ   شھ   کھ  گھ 

بھا  پھا  تھا  ٹھا  جھا  چھا  دھا  ڈھا  کھا  گھا 

بھو  پھو  تھو  ٹھو  جھو   چھو   دھو  ڈھو   کھو  گھو 

بھی  پھی  تھی  ٹھی  جھی  چھی  دھی  کھی   گھی 

بھے   پھے   تھے  ٹھے  جھے  چھے  دھے  ڈھے  کھے 

اب ان مرکبات سے الفاظ بناۓ جا سکتے ہیں- مثلا یہ پچاس الفاظ  

ہاتھ   ساتھ   آٹھ   ساٹھ   باٹھ   ٹھاٹھ   

گھاس   بھاگ   تھال   جھاڑ  چھا چھ   کھاد 

بوجھ   کھوج   پھول  دھول  ڈھول   جھول  جھوٹ 

ہاتھی   ساتھی   ماتھا   ساجھا   گھوڑا   جھاڑو 

کھودا  کھودی  کھودے  بھابھی   بھائی   چھائی 

دھوبی   گوبھی    تھوڑا   تھوڑا   تھوڑے   کھڑکی 

پھل   کھل   دھل   گھل   ڈھل   تھک  جھک   ڈھک   

بھر  پھر  گھر  کھڑ  دھڑ  ڈھب  

گھوڑا  گھاس  کھاتا ہے -  باغ میں پھول ہیں 

کھڑکی  کھولو -  بھابھی کے ہاتھ میں تھالی ہے - 

کالی گھٹا چھائی ہے-  بھائی  نے جھولا جھولا- 

آپی کے ہاتھ میں جھاڑو ہے - تھوڑی سی گوبھی اور دو آلو لے لو- 

میں تھک گیا -  یہ نانی کا گھر ہے 












Sunday, 15 December 2013

The Impacts of English Literature in Pakistan

99.9% children who are attending any kind of schooling are ESL - English is a secondary language for them.
Have the educationists and parents given a thought how incoherent is the inclusion of English literature in English curriculum when children of age level 6 to 14 are still in the process of learning language (unfortunately, through grammar).

What does English literature curriculum in Pakistan consists of?
Novels and plays of William Shakespeare, Sir Arthur Conan Doyle and Charles Dickens mostly.
Questions and answers, RTC (reference to context), multiple choice, sequence of events, etc.

Who were these people?
The classic authors of their era from Europe - Oxford is cashing in their names through Pakistani parents.

Which era they belonged to?
William Shakespeare  1564 - 1616
Charles Dickens 1812 - 1870
Sir Arthur Conan Doyle 1859 - 1930
Even the latest one, Sir Arthur Conan Doyle, died long before the man stepped on the moon, long before Bill Gates introduced Windows for common people, even long before when Japan was not bombed by America. After the introduction of Windows, the author-ship has changed from writing books to writing computer programs. 

What can a 5th Grader (age 10 or 11) learn from Charles Dickens' "Great Expectations" or Shakespeare's "Twelfth Night" and "Mid-summer Night Dream"?

Great Expectations - a novel about a child who is raised by her brutal elder sister, he falls in love with a girl, he becomes rich for her and at the end his great expectations from life are doomed and he decides to spend an ordinary life.

A Mid-summer Night Dream - a play themed on feminism and love, fairies controlling lovers, comedy, etc.

Twelfth Night - a play based on romance and comedy.

What can 4th, 5th and 6th Graders (age 10 to 12) learn from Sherlock Holmes' adventures in a book form?


The Impacts of English Literature in Pakistan
  1. The novels and plays were written for adults, not children.  So, basically, they shouldn't be the part of the curriculum till the child is considered an adult.
  2. A novel is an idea, a plot, a theme - it is not grammar or language.  So, it should not be regarded as a resource for building vocabulary and absorbing language for children.  What is the purpose of including English literature in the syllabus - language?  Children in Pakistan cannot, because this is not the right age to impose philosophy of life on their little minds - the philosophy of the dealings of adults of an ancient non-Pakistani environment.
  3. English literature diminishes students' creative skills and leaves them wandering into dark ages.  They have to read chapters over and over to grasp the sequence of events and understand the meaning of difficult words.
  4. Children lose 90% of interest in the novel or play when they have to stop at every line and tell the meaning of difficult words and describe in their own words what is going on in the story - the story which is non-relevant to their culture, language and environment they are growing in.  The 10% interest remains because they know that nobody cares about their losing interest in the language and they have to pass the test anyway, so they try to memorize.  Students are not familiar with English names and places.  They pronounce them wrong and mostly can't figure out if it is a name of a place or a person.
  5. Most English novels are based on romance, love and social injustices of the era which is not in relevance anymore, not even in Europe as I believe.  Children in Pakistan are still not allowed to talk about love, romance, marriage openly.  I wonder why parents allow them to be indulged into a book which discusses all these matters in English.  I think parents should at least once read these novels themselves and decide if they allow their children to read it or not.  
  6. These novels are all fiction - a plot set by and characters created by a person who lived 100 or 200 years ago when the world was not attractive as it is now for children.  The theme of all these novels or plays are more philosophical than scientific.  The emotions, the phrases, the dialogues, the moral lessons, the enigmatic endings, all are inexplicable.  And I ask how many adults in Pakistan would dare to read Shakespeare and Charles Dickens for improving their language skills.
  7.  Reference to Context (RTC) has proven to be the worst learning technique of all - a child has to read a novel or play over and over several times so he/she can find out who said what to whom for what reason.  This is an ill-treatment, a mental torture, thus, classrooms become torture cells for them.
  8. Character sketch, another successful technique to destroy children's intellectual capabilities - Imagine a 10 to 14 year old child actually memorizing the novel more than 100 pages, from the beginning till end, just to figure out the positive and negative characteristics of so many characters.  Can adults do that?
  9. Children are pressurized to do all the work in their own words, the character sketch, the RTC, the word meanings, the setting, the plot, etc.  Just give it a thought that how much vocabulary an ESL child in a non-linguistic environment (an environment where no language is given due importance) would have build by the age of 14 so he/she can write something to impress his/her teachers and parents?  Otherwise, they keep losing points and are considered non-educational buddies.
  10. The assessments are given either every month or at the end of semester which is usually after 2 and half month.  The new trend of assessment demands students to be alert and show progress on daily basis.  Students are now being assessed on their classwork, homework and projects.  These marks are included in the report cards.  Those who have introduced this degenerating idea must evaluate their own daily performance comparing to children.  A child is expected to perform 100% on daily basis, behave 100% on daily basis and yet grow as an obedient person - in a society where children don't witness even .001 % adults behaving and performing even 10% of what they expect from their children.  This is the worst type of slavery imposed on children by their teachers and adults.
  11. Consequently, English literature is helping children learning nothing.  It is deteriorating their learning skills and causing tiredness and dullness.   
Even if English literature is not taught the way it is being taught currently, what difference would it make?  How different would that way be from the current way?  Even then, will children be given time to understand whatever the idea is behind that novel or play?   Why do Pakistani children have to memorize the biographies of English writers at this young age?  Are Pakistani children aware of the biographies of their own parents?

Children in Pakistan are oppressed equally by school administrations and parents.  Cruel are those who do not raise their voice against this worst kind of oppression that is launched against the children of Pakistan.