Showing posts with label home schooling. Show all posts
Showing posts with label home schooling. Show all posts

Tuesday, 20 September 2022

سچّے خواب

 آپکے بچے آپکی ذمّہ داری ہیں-  


انکی تعلیم و تربیت کے معاملے میں کسی پر بھروسہ نہ کریں-  بچوں کی زبان، انکے الفاظ، انکے لہجے، انکے جملے-  سب آپکی ذمّہ داری ہیں-  اور اگر آپ ان سب سے لاتعلقی اختیار کرتے ہیں-  تو پھر معاشرے کو اسکا ذمّہ دار نہ ٹھرائیں-  نہ نظام کو برا بھلا کہیں-  نہ نظام چلانے والوں پر انگلی اٹھائیں-  


کیونکہ آپکے بچے ہی بڑے ہو کر نظام چلنے چلانے میں حصّہ لیتے ہیں-  جسطرح کی تربیت ہوتی ہے وہی وہ معاشرے کو لوٹا دیتے ہیں-  


بچوں کی تربیت میں جو سب سے اہم چیز ہے وہ ہے "نہ بکنے کی صلاحیت"-  نہ خود بکیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو بکنے دیں-  کیونکہ ایسے بچے بڑے ہوکر پہلے گھر اور خاندان کی عزت اور پھر ملک و قوم تک بیچ دیتے ہیں-  


انہیں بتائیں کہ پیسہ عزت و غیرت سے بڑھ کر نہیں ہوتا-  عزت و غیرت کے نقصان پیسہ کے نقصان سے بڑھ کر ہوتا ہے-   


بالکل ایسے ہی-  جیسے عزت و غیرت کی دولت سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں ہوتی-  اسکی آزمائشیں بہت زیادہ شدید ہوتی ہیں-  


زندگی وقت ہے جو دیا گیا ہے معاملات کو صحیح آپشنز کے ساتھ ڈیل کرنے کے لئے-  صحیح آپشنز کو استعمال کرنا جسے اسلامی اصطلاح میں "حکمت" کہا جاتا ہے-  تو پھر بچوں کو ہر معاملے میں آپشنز اور صحیح آپشن کے انتخاب کا طریقہ سمجھائیں-  


رَبِّ هَبۡ لِىۡ حُكۡمًا وَّاَلۡحِقۡنِىۡ بِالصّٰلِحِيۡنَۙ‏

اے رب مجھے عقل و دانش عطا فرما 

اور مجھے صالحین سے ملا دے-

سوره الشعراء آیت ٨٣

 

بچوں کی آسانی کے لئے-  


- اتوار کے دن کیا آپشنز ہیں دن گزارنے کے لئے؟  اور بہترین کون سے ہیں-  


- ایک ہزار روپے بچ گۓ ہیں انہیں خرچ کرنے کے آپشنز اور بہترین آپشنز کیا ہیں-  


- سالگرہ منانے کے لئے کیا کیا آپشنز ہیں اور بہترین کون سے ہیں-  


- آج دو گھنٹے کی فرصت ہے-  اس فرصت کو استعمال کرنے کی کیا آپشنز ہیں اور کون سی ہیں-  


- آج شاپنگ جانا ہے-  کن بہترین آپشنز کے ساتھ-  


-  گھر کی صفائی کرنی ہے تو کیا پلان ہو سکتے ہیں-  کہاں سے شروع کریں-  کون کیا کرے-  کتنے وقت میں کام ختم کرتے ہیں-  


اور ایسے ہی بہت سے معاملات بچوں کو سکھانے ہوتے ہیں-  اور یہ کوئی استاد نہیں سکھا سکتا-  یہ ذمّہ داری ہے والدین کی-  اور خاص طور پر والدہ کی-  ایسے ہی تو نہیں ماؤں کے قدموں کے نیچے جنّت رکھی-  ایسے ہی تو نہیں ماؤں کو باپوں پر تین درجے فوقیت دی گئی-  


اور ایسے ہی تو نہیں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ "علم حاصل کرنا ہر مرد و عورت پر فرض ہے"-  


تو ان خوابوں سے نکلیں جو زمانہ آپ پر مسلّط کرتا ہے کیونکہ وہ جھوٹے خواب ہیں-  اور ان خوابوں کی تعبیر ڈھونڈیں جو اللہ ربّ العزت آپکو دکھاتا ہے-  انبیاء علیھم السّلام نے آپکو دکھاۓ ہیں-  کیونکہ وہ سچّے خواب ہیں- 

Saturday, 3 September 2022

زندگی کا مقصد

 بچوں کو زندگی کا مقصد بتانا بھی ضروری ہے-  لیکن وہ بڑوں کی طرح نہ زندگی سمجھ سکتے ہیں نہ اسکا مقصد-   


اسکے لئے بچوں کو ترجیحات سکھائی جاتی ہیں-  کام کرنا سکھایا جاتا ہے-  زندگی کا مقصد ہی کام ہے-  اچھے کام-  کون سا کام فرض ہیں-  کون سے کام ضروری ہیں-  کون سے غیر ضروری یا محض انٹرٹینمنٹ-  زندگی انٹرٹینمنٹ نہیں ہوتی-  انٹرٹینمنٹ زندگی کا ایک چھوٹا سا حصّہ ہوتا ہے-  


بچوں کو انکی اپنی اہمیت کا احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ اس گھر اور خاندان کے لئے کتنے اہم ہیں-  اور اس گھر کی خوشیوں میں انکا کیا حصّہ ہے-  گھر کے کتنے لوگ اس بچے کے لئے کیا کر رہے ہیں-  اور کیوں کر رہے ہیں-  

 

بچوں کو ارد گرد کی چیزوں اور لوگوں کی اہمیت بتائی جاتی ہے-  دن کی اہمیت-  رات کی اہمیت-  اللہ پاک کی بنائی ہوئی نعمتوں کی اہمیت-  ہر نعمت کا احساس کرنا-  نعمتوں پر شکر کرنا-  نعمتوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹنا-  


بچوں کو سچّی کہانیوں سے زندگی کی سمجھ آتی ہے-  وہ کہانیاں جو وہ سنتے ہیں-  دیکھتے ہیں-  آس پاس کے واقعات سے محسوس کرتے ہیں-  لوگوں کو ہنستے ہوۓ یا روتے ہوۓ دیکھتے ہیں-  


یہی ہوم اسکولنگ ہے-  


ہوم اسکولنگ

اپنے بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو محدود نہ کریں-  ہر بات پر نہ نہ کر کے-  اور ہر بات سے ڈرا کر-  


والدین کی اکثریت خود ان میں سے کسی بات پر عمل نہیں کرتی جو وہ اپنے بچوں میں دیکھنا چاہتے ہیں اور روزانہ اس پر لیکچرز دے رہے ہوتے ہیں-  


"اتنی سی عمر میں قرآن نہیں پڑھ سکتا-  اتنی سی عمر میں اتنی دعائیں کیسے یاد کریگا-  اتنی سی عمر میں انبیاء علیھم السّلام کے قصّے نہیں سن سکتا- ابھی چھوٹا ہے سمجھ نہیں ہے-  بس یہ سوالات کر سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں-  اتنے قاریوں سے پڑھا کہ کچھ سیکھ ہی نہیں سکا-  اتنی ٹیچرز نے پڑھایا کہ جو آتا تھا وہ بھی بھول گیا-  انگلش میں ویڈیو کیسے دیکھے اسے تو انگلش سمجھ ہی نہیں آئیگی-  بلاوہ عربی کا بوجھ ڈالیں کون سا اسکا امتحان ہوتا ہے-  حساب تو ہمیں اتنا مشکل لگتا تھا ان بچوں کے لئے تو اور بھی مسلہ ہے- اسے نہ چھوؤ-  اسے نہ چھیڑو-  یہ نہ کرو-  وہ نہ کرو-  ادھر نہ بیٹھو-  وہاں نہ جاؤ-  اس سے نہ ملو"-  وغیرہ وغیرہ وغیرہ 


حقیقت یہ ہے کہ اتنی سی ہی عمر میں بچہ بہت کچھ سیکھ چکا ہوتا ہے-  اچھی چیزوں اور اچھی باتوں کو بچوں کی یاداشت کا حصّہ بنائیں-  کیونکہ بچہ بڑوں سے زیادہ سیکھتا ہے-  سمجھ بھی لیتا ہے-  بس اکثر اظہار نہیں کر پاتا-  بیان نہیں کر پاتا-  بتا نہیں پاتا-  


اسے مسائل کو حل کرنا سکھائیں-  نہ کہ اپنے خواب، اپنی خواہشوں کو بچوں کے لئے مسلہ بنا دیں-  


اگر بچے نے چار قاریوں سے پڑھا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کریں کہ "اس کو چار قاریوں سے سیکھنے کو ملا"-  یا اسی طرح اگر کوئی اور سبجیکٹ چھ سات ٹیچرز سے پڑھنے کو ملا ہو-  کیونکہ ہر استاد کا اپنا انداز ہوتا ہے-  اس میں اساتذہ کا قصور کم ہوتا ہے-  اگر وہ مخلص ہوں-  اور والدین کا زیادہ کیونکہ انکی توقعات ساری کی ساری اساتذہ سے ہوتی ہیں-  کہ وہ بچوں کو جادو کی چھڑی سے سب کچھ سکھا دیں-  


والدین اگر توجہ دیں تو ساری کی ساری پری اسکول کی تعلیم بچا شروع کے تین چار سالوں میں سیکھ سکتا ہے-  نرم یا سخت، ہلکا یا بھاری، گیلا یا خشک، گرم ٹھنڈا، اوپر یا نیچے، دائیں بائیں، آگے پیچھے، آہستہ یا تیز، کم یا زیادہ، چھوٹا یا بڑا، صاف یا گندا، رنگوں کے نام، پھلوں کے نام، سبزیوں کے نام، جسم کے حصّوں کے نام، گھر کے حصّوں کے نام، رشتے، پیشے، موسم، اوقات، خریدنا بیچنا، بھاگنا رکنا، ادب آداب، عبادات اور نہ جانے کون کون سے الفاظ اور علم-  


کیا ضروری کہ اس مفت کے علم کے لئے ایک تو بچے کو اسکول کی عمر سے پہلے ہی گھر سے باہر پھینک دیا جاۓ-  دوسرے خواہ مخواہ ہزاروں روپے کے اخراجات بڑھا کر خود کو معاشی مصیبت میں ڈالا جاۓ-  اور تیسرا بچے کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کے بجاۓ کمزور کر دیا جاۓ-  چوتھے یہ کہ اس بنیادی تعلیم کی وجہ سے گھر کو بھی اسکول اور ماں باپ کو بھی استاد بنا دیا جاۓ-  پانچویں یہ کہ بچوں کو ان کے کھیل کود کے وقت سے محروم کردیا جاۓ اس مستقبل کے لئے جسکا کچھ نہیں پتہ کیا ہو-  


اور کیا ضروری کہ بچہ صرف اردو انگلش ہی سیکھے-  ہر زبان اللہ کی زبان ہے-  


اور کیا ضروری کہ اتنا ہی سیکھے جتنا بتا دیا گیا ہے-  انسان کا ذہن لامحدود ہے-  


اور انہی سے سیکھے جن کو پیسے دئیے گۓ سکھانے کے لئے-  ہر جگہ، ہر وقت، ہر شخص، ہر ملک، ہر قوم, ہر چیز، ہر عمل بچے کو کچھ نہ کچھ سکھاتا رہتا ہے-  بشرطیکہ اسکے ارد گرد بڑے اسے فضول نہ سمجھیں-  


اپنے بچوں کو اپنے ساتھ رکھیں-  خود سمجھائیں-  خود بات کریں-  ایسے کام کریں کہ بچوں کو اپنی مثالیں دے سکیں-