Showing posts with label اردو ابتدائی تعلیم. Show all posts
Showing posts with label اردو ابتدائی تعلیم. Show all posts

Friday, 30 September 2022

کہانیوں کے فائدے

 آپکے بچے آپکی ذمّہ داری ہیں-  


سب سے اہم انسان کی زندگی کی وہ کہانی ہوتی ہے جسے وہ خود لکھتا ہے-  دوسروں سے نہیں لکھواتا-  


بچوں کو کہانیاں سننے کا شوق ہوتا ہے- اور پہلے ہر گھر اور ہر خاندان میں کوئی نہ کوئی نہ کوئی ضرور ایسا ہوتا تھا جو بچوں کو ساتھ لیکر بیٹھتا اور کہانیاں سناتا-  


 ہماری باجی، ہمارے دادا ہمیں کہانیاں سناتے تھے-  


ہمارے امّی بابا اپنے بچپن کے واقعات سناتے تھے-  


ریڈیو پر شام سات بجے بچوں کے لئے ایک پروگرام ہوتا تھا جس میں ایک خاتون کہانی سناتی تھیں-  


لیکن آج ہم نے ان سے یہ شوق اور اسکا مزہ چھین لیا ہے-  گھروں میں اور خاندانوں میں ایک استاد نما اور پولیس نما کردار آگۓ ہیں-  جو بچوں کو سیدھی راہ دکھاتے رہتے ہیں-  اور بچے اتنے ہی بگڑتے جارہے ہیں-  اور اجتماعی طور پر معاشرہ بھی بگڑ رہا ہے-  


کہانیاں بہت فائدہ مند ہوتی ہیں-  


- کہانیوں کا سب سے بڑا فائدہ حقیقی زندگی میں یہ ہوتا ہے کہ بچے اور کہانی سنانے والے کے درمیان ایک خوشی کا تعلق پیدا ہو جاتا ہے-  بچے کہانی سنانے والوں کو پسند کرتے ہیں-  ان سے کھل کر بات کرتے ہیں- 

- بچے کہانیوں سے کردار کشی سیکھتے ہیں-  کون سا کردار اچھا کون سا برا-  

- بچے کرداروں کا آپس میں تعلق سیکھتے ہیں-  کس کا کس سے کیا رشتہ تھا- 

- بچے کہانیوں سے واقعات کا ربط سیکھتے ہیں-  کس نے کیا کیا-  اس کے بعد کیا ہوا-   

- بچے ایک کہانی سے دوسری کہانی کا موازنہ کرتے ہیں-  کون سی کہانی اچھی تھی کون سی بے مزہ-  کون سی لمبی کہانی تھی کون سی چھوٹی-  

- کہانی ایک ہی ہوتی ہے-  لیکن ہر بچہ اس کہانی کو سن کر اپنے ذہن میں اپنا سیٹ اپ بناتا ہے-  بادشاہ کا حلیہ-  شہزادی کا حلیہ-  جنگل کا منظر-  محل کا منظر-  سمندر کا سفر-  گھروں کا منظر-  رات کا ماحول-  دن کا ماحول-  وغیرہ وغیرہ 

- بچے سوچنا شروع کردیتے ہیں کہانی کا آغاز اور انجام-  کس کردار کا انجام کیا ہوا-  دوسرے الفاظ میں مکافات عمل-  

- بچے کہانی کے واقعات کو حقیقی زندگی کے واقعات سے موازنہ کرتے ہیں-  کوئی حادثہ-  کوئی خوشی-  کوئی غم-  کوئی تکلیف- کوئی قربانی-  کوئی فیصلہ-  

- کہانیوں سے بچوں کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے-  گرامر اچھی ہو جاتی ہے-  جملوں کی بناوٹ-  الفاظ کا چناؤ-  محاوروں اور ضرب المثال کا استعمال- سب سیکھتے ہیں-  

- کہانیوں سے بچے لب و لہجہ بھی سیکھتے ہیں-  خوشی، خوف، دکھ، کامیابی، ناکامی، مدد، ظلم اور مختلف مواقع پر کہانی سنانے والے کی آواز کا اتار چڑھاؤ- 


بچوں کو کہانیاں مزے کے لئے سنائی جاتی ہیں-  سبق دینے کے لئے-  امتحان اور ٹیسٹ دینے کے لئے نہیں-  کہانیوں بچوں کے پاس اور فیل ہونے کا فیصلہ نہیں کرتیں-  کیونکہ یہ کام خود بخود ہو جاتے ہیں اگر بچوں کو کہانیوں میں مزہ آنے لگے-